پاکستان پاکستان24

احساس ریلیف پروگرام نے ملک بچا لیا: عمران خان

جون 22, 2020

احساس ریلیف پروگرام نے ملک بچا لیا: عمران خان


پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں حالات خراب ہو رہے تھے ان کے ریلیف پروگرام احساس نے بچا لیا۔

پیر کو اسلام آباد میں کورونا کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ اگر صوبے ان سے پوچھ لیتے تو وہ کبھی بھی سخت لاک ڈاؤن نہ ہونے دیتے کیونکہ یہ قدم اٹھانے سے قبل غریبوں کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کورونا کی وجہ سے جو صورت حال بنی ماضی میں اس کی کوئی مثال موجود نہیں۔

‘یورپ کی طرف دیکھ کر ممالک لاک ڈاؤن کی طرف جاتے گئے، ہمارے حالات ان سے یکسر مختلف ہیں۔’

عمران خان نے کہا کہ وہ  شروع سے ہی سخت لاک ڈاؤن کے خلاف تھے جس پر ان کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ ‘لاک ڈاؤن نے سروس سٹرکچر کو تباہ کیا۔ شکر ہے ہم نے پریشر نہیں لیا اور بات سن لی گئی۔’

انہوں نے انڈیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں حکومت نے سخت لاک ڈاؤن کیا جس کی وجہ سے وہاں غریبوں کے حالات بہت خراب ہو گئے ہیں۔


عمران خان نے کہا کہ امریکہ جیسے امیر ملک میں بھی لوگ میلوں لمبی قطاروں میں کھانا لینے کے کھڑے ہیں۔ اٹلی میں بھی حالات مختلف نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ریلیف فنڈ اور احساس پروگرام سے عوام کی فلاح کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ‘ریلیف فنڈ میں کوئی ایک روپیہ دے تو حکومت اس میں چار روپے ڈال کر آگے دے دیتی ہے۔’

وزیراعظم کے بقول پناہ گاہیں ایک زبردست پروگرام ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ بڑے شہروں میں کام کے  لیے آتے ہیں۔ ’جب ان کو رہائش اور کھانا مفت ملتا ہے تو وہ سارے پیسے گھر بھجوا سکتے ہیں۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ‘ریلیف فنڈ اور احساس پروگرام کی وجہ سے ہم بچ گئے کیونکہ حالات خراب ہو رہے تھے۔  

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانیوں میں خیرات دینے کا جذبہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔’میں 30 سال سے پیسہ اکٹھا کر رہا ہوں، امیروں سے زیادہ دینے کا جذبہ غریبوں میں ہے۔‘

عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب اس کے لیے چندہ اکٹھا کرنا شروع کیا اس میں زیادہ حصہ غریبوں نے ڈالا۔ ’شوکت خانم 70 کروڑ میں بنا جس کا سالانہ خسارہ 12 ارب ہے، جس کا مطلب ہے کہ 12 ارب کا علاج مفت ہوتا ہے۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ زلزلے اور سیلاب کے موقعے پر مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے امداد متاثر ہوئی۔ ’کچھ علاقوں میں لوگ گاڑیاں بھر کر پہنچ رہے تھے جبکہ کچھ لوگ بھوکے بیٹھے تھے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے