گالیاں دینے والا سپریم کورٹ میں چائے پیتا رہا
پاکستان کی سپریم کورٹ میں عدلیہ مخالف توہین آمیز ویڈیو پر لیے گئے نوٹس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔
عدالت عظمیٰ نے عدلیہ کی بے توقیری کرنے والے افتخارالدین مرزا، اٹارنی جنرل اور ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر دیے۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل یہ آپکا ادارہ کیا کر رہا ہے.اٹارنی جنرل نے جواب دیا جو کچھ ہوا یہ مکمل طور پر ہمارے لئے ناقابل قبول ہے.
چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ نے اس سارے معاملے پر کیا کارروائی کی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کارروائی کے لئے معاملہ ایف آئی سائبر کرائم ونگ کو بھیجا گیا.
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے نے الیکٹرانک کرائم 2016 کے تحت مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کر دی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا ایف آئی اے کی طرف سے کچھ نہیں کیا گیا، ججز نے پہلے بھی کچھ شکایات ایف آئی اے کو بھیجیں،ججز کی طرف سے ایف آئی اے کو بھیجی گئی شکایات پر اب تک کچھ نہیں ہوا۔
جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ ویڈیو میں تعزیرات پاکستان کے جرم کا ارتکاب کیا گیا، ویڈیو میں تعزیرات پاکستان کے جرم کا ارتکاب کیا گیا،اعلیٰ اداروں اور انفرادی افراد کے نام لیے گئے.
جسٹس اعجاز الااحسن نے مزید کہا کہ ویڈیو میں تضحیک آمیز انداز میں جج صاحب کا نام لیا گیا، ایف آئی اے نے تضحیک آمیز ویڈیو پر خود کیوں کارروائی کا آغاز نہیں کیا، جج صاحب کی اہلیہ نے درخواست دی پھر ایف آئی اے نے کارروائی کا آغاز کیا.
اٹارنی جنرل نے کہا کہ تضحیک آمیز ویڈیو بیان دینے والے مولانا سپریم کورٹ میں موجود ہیں، پولیس کو جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے جو درخواست دی اس کے دو مراحل ہیں، درخواست کا ایک حصہ ویڈیو سے متعلق ہے، درخواست کے دوسرے حصہ کا ویڈیو سے کوئی لینا دینا نہیں، بہرحال جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ درخواست میں موقف اختیار بارے مکمل آزاد ہیں.
واضح رہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی درخواست کے دوسرے حصے میں وحید ڈوگر، شہزاد اکبر اور حساس ادارے کے سربراہ کا زکر ہے.
اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ درج کیے گئے مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ پانچ بھی شامل ہے،انسداد دہشت گردی کی دفعہ 6 کو ایف آئی آر میں شامل کرنے کے معاملے پر جائزہ لے رہے ہیں.
ایک خاتون وکیل نے روسٹرم پر آکر کہا کہ افتخار الدین مرزا کو پولیس نے حراست میں لے رکھا ہے. چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس انھیں کیوں پکڑے گی،ہم نے انھیں نوٹس دے دیا ہے، بس ٹھیک ہے.
مقدمے کی سماعت دو جولائی تک ملتوی کردی گئی ہے.عدالتی کارروائی کے اختتام کے بعد افتخار الدین مرزا کچھ دیر کیلئے بار روم میں بھی بیٹھے رہے، اور تسلی کے ساتھ چائے بھی پی۔


