میرے لیے جرنیل نے ٹیکے کا انتظام کیا: شیخ رشید
پاکستان میں ریلوے کے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ان پر چار خودکش حملے ہوئے وہ نہ ڈرے مگر کورونا سے خوفزدہ ہو گئے تھے۔
لاہور میں نیوز کانفرنس کے دوران کورونا کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ وائرس ایک سنجیدہ اور خوفناک بیماری ہے۔
’مجھ پر چار خودکش حملے ہوئے، میں کبھی نہیں گھبرایا، میرے پانچ پانچ ساتھی شہید ہوئے لیکن یہ بیماری اللہ کسی دشمن کو بھی نہ لگائے، اللہ شہباز شریف کو بھی صحت دے۔‘
شیخ رشید نے کہا کہ وہ جنرل باجوہ سے عمر میں دس سال بڑے ہیں اور آرمی چیف نے ہسپتال میں بیماری کے دوران خیال رکھا۔
ریلوے کے وفاقی وزیر نے کہا کہ ’ فوج کورونا وائرس اور ٹڈی دل کے خلاف جنگ کر رہی ہے، فوج سیلاب کے خلاف تیاری کر رہی ہے، فوج سرحدوں پر دفاع کر رہی ہے، پاکستانی فوج اصل میں اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کو پتا ہے کہ اس نے کیا کرنا ہے۔‘
شیخ رشید احمد گزشتہ ماہ کورونا کا شکار ہو گئے تھے اور علاج کے لیے راولپنڈی کے فوجی ہسپتال میں زیر علاج رہے۔
شیخ رشید نے کہا کہ 14 وزارتیں چلانے کے بعد بھی ان کو کورونا وائرس کے علاج کے لیے ایک ٹیکہ تک نہیں مل رہا تھا۔
وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ ’پاکستان میں کوئی ایسا بندہ نہیں جس نے 14 وزارتوں کو چلایا ہو، ایسے شخص کو بیماری کے علاج کے لیے ملک میں ایک ٹیکہ پانچ لاکھ روپے کا بھی نہیں مل رہا تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے ان کے لیے ٹیکے کا انتظام کیا۔

