امریکہ میں پاکستانی اثاثہ روز ویلٹ ہوٹل بند
امریکی شہر نیویارک میں پاکستان کی قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کے ملکیتی مشہور ہوٹل روز ویلٹ کو مستقل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
روزویلٹ ہوٹل نے اپنی ویب سائٹ پر جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ ’وہ 31 اکتوبر سے مہمانوں کے لیے اپنے دروازے مستقل طور پر بند کر دے گا۔‘
واضح رہے کہ پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت پر اپوزیشن رہنما یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے بعض مشیر غیر ملکی ہیں اور اپنے مفادات کے لیے قومی اثاثے اونے پونے داموں بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ جولائی میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے معاون خصوصی سید زلفی بخاری نے کہا تھا کہ روزویلٹ ہوٹل نے پچھلے سال 15 لاکھ ڈالر کا نقصان کیا، اس ہوٹل کو نقصان میں کیوں چلائیں؟
اعلان میں کہا گیا ہے کہ ’موجودہ معاشی اثرات کی وجہ سے روزویلٹ ہوٹل 100 برس تک مہمانوں کو خوش آمدید کرنے کے بعد افسوس کے ساتھ اپنے دروازے بند کر رہا ہے۔‘
اس اعلان کے چند گھنٹے بعد اس بیان کو ہوٹل کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔
اپنے بیان میں ہوٹل نے کہا ہے کہ ہم اپنے مہمانوں کی کہانیوں کا حصہ بن کر اتنا ہی لطف اندوز ہوئے جتنا ہم 1924 سے مڈ ٹاؤن مین ہٹن کی تاریخ کا حصہ رہے۔
پی آئی اے نے روزویلٹ ہوٹل 1970 کی دہائی میں لیز پر لیا اور بعد ازاں خریدا تھا۔
پاکستان میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دو ستمبر 2020 کو روزویلٹ ہوٹل کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے 142 ملین ڈالرز کی منظوری بھی دی تھی۔
اس ہوٹل کا نام سابق امریکی صدر روزویلٹ کے نام پر رکھا گیا اور اسے 23 ستمبر 1924 کو کھول دیا گیا۔
ایک ہزار 25 کمروں اور چار سویٹس پر مشتمل اس ہوٹل کی تعمیر پر ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر لاگت آئی تھی۔

