پاکستان24

کٹھ پتلی نے جنرل باجوہ کو دھاندلی میں ملوث کرنے کی تصدیق کی: اپوزیشن رہنما

اکتوبر 18, 2020

کٹھ پتلی نے جنرل باجوہ کو دھاندلی میں ملوث کرنے کی تصدیق کی: اپوزیشن رہنما

پاکستان میں اپوزیشن کے حکومت مخالف اتحاد ڈیموکریٹک موومنٹ کے دوسرے جلسے میں کراچی میں رات دیر گئے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ باجوہ صاحب آپ ہمارے لیے محترم ہیں مگر بے وقوف دوست سے بچنے کی کوشش کیجئے۔ کٹھ پتلی نے خواجہ آصف کے حوالے سے بات کر کے جنرل باجوہ کو دھاندلی میں ملوث کرنے کی تصدیق کی۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ صوبوں کو حقوق اور ان کا حصہ نہیں دیا جا رہا۔ سندھ میں سیلاب کے متاثرین کو وفاقی حکومت نے کچھ نہیں دیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ”جب کٹھ پتلیوں کو عوام پر مسلط کیا جاتا ہے تو فارن پالیسی بھی تباہ ہو جاتی ہے۔ یہ کشمیر کا وکیل بننے کا دعویٰ کرتا تھا یہ آج کلبھوشن کا وکیل بن گیا ہے ۔ اس نے ہمارے تمام دوست ممالک کے ساتھ تعلقات خطرے میں ڈال دیے ہیں۔“
بلاول نے کہا کہ آج بے گناہ شہریوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ عوام کو لاپتا کیا جا رہا ہے اور اس جرم میں ریاست ملوث ہے۔
یہ سلیکٹڈ وزیراعظم کہتا ہے کہ میں جمہوریت ہوں ۔ اس سے زیادہ آمرانہ سوچ کیا ہوتی ہے۔ اسے عوام کے دکھ نظر نہیں آتے اور یہ جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس شخص کا غرور پاکستان کے عوام مٹی میں ملا دیں گے۔
اس کٹھ پتلی وزیراعظم اور اس کے سہولت کاروں کو ماضی کے آمروں کا انجام یاد کرتا چاہیے:
تم سے پہلے یہاں جو شخص تخت نشیں تھا
اسے بھی اتنا ہی اپنے خدا ہونے کا ہوں تھا

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ”جمہوریت کی جنگ عوام کی جنگ ہے۔ سلیکٹڈ وزیراعظم کو مہنگائی کی خبر ٹی وی سے ملتی ہے، اس کو نہیں پتا کہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے خلاف غداری کے پرچے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس دور میں عوام نے تاریخی مہنگائی دیکھی ہے۔ پنجاب میں ایک نااہل ڈمی وزیر اعلیٰ لگا کر پنجاب کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے، بلوچستان اور پختونخوا کے ساتھ ظلم کیا جا رہا ہے۔ سندھ کے حقوق پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے۔کے الیکٹرک ہمارے کراچی کے عوام کا خون چوس رہا ہے لیکن عمران خان اپنے دوست کو بچانے کے لیے کراچی کے عوام کو اندھیروں میں دھکیل رہا ہے“

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کراچی میں اپنے پہلے عوامی خطاب میں کہا ہے کہ عوام کے ووٹوں کو بوٹوں تلے روندنے والوں کو سلام نہیں کرتے۔

تحریک انصاف کی حکومت اور وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ بی آر ٹی اور بلین ٹری، مہنگائی اور غربت موجودہ حکومت کے کارنامے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سقوط کشمیر، صنعتوں کی تباہی اور دوست ملکوں سے پاکستان کو دور کرنا اس حکومت کے کارنامے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ ایک یا دو افراد ادارہ نہیں ہوتے۔ ‏”عمران نیازی، بے شرم آدمی، تم فوج کے ترجمان ہو؟ تم نے فوج کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے؟ پاکستانی فوج ہماری ہے، پاکستانی فوج نواز شریف کی ہے، پاکستانی فوج کراچی PDM جلسے میں موجود ایک ایک جماعت اور ایک ایک فرد کی ہے۔“

جلسے سے خطاب میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ "ہم ایک ایسا نیا پاکستان چاہتے ہیں جہاں طاقت کا سرچشمہ عوام کی منتخب پارلیمنٹ ہے اور وسائل عوام کے لیے ہوں۔”

انہوں نے کہا کہ فوج اور خفیہ ایجنسیوں کا ملک کی سیاست اور حکومتیں بنانے میں کوئی کردار نہیں، یہ سیاسی قیادت یا اپوزیشن نہیں کہتی بلکہ پاکستان کا آئین کہتا ہے۔

"پاکستان کی خارجہ پالیسی کون بناتا ہے؟ کہاں بنتی ہے؟ موجودہ خارجہ پالیسی سے ملک کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اس کی ذمہ دار چھوٹی اقوام نہیں ہیں۔”

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر ہماری پُرامن سیاسی جدوجہد سے حکومت نہ گئی تو پھر عوام ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر کو اس کے دفتر سے باہر پھینکنے کے لیے نکلیں گے۔

سردار اختر جان مینگل نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ یہاں ایک بار نہیں کئی بار ملک کے آئین کو توڑا گیا مگر کسی پر کوئی مقدمہ نہیں بنا جبکہ ہم پر غداری کے کئی مقدمات بنائے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی مٹی اور وطن کے لیے خون بہایا مگر ہمیں غدار کہا گیا۔ یہ ملک کیا ڈی ایچ اے کے لیے بنایا گیا؟

اختر مینگل نے سوال کیا کہ یہ ملک عوام کے لیے بنایا گیا ہے یا کنٹونمنٹ کے لیے بنایا گیا ہے؟ یہ ملک عوام کے لیے بنایا گیا پیزا والوں کے لیے بنایا گیا ہے؟

اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ”کہا گیا کہ گوجرانوالہ میں لوگ قیمے کے نان پر جمع کیے گئے۔ بلاول بھٹو صاحب اور مریم نواز صاحبہ سے درخواست کروں گا کہ آئندہ جلسوں کے لیے پاپا جونز کے پیزے آرڈر کیا کریں۔“

سٹیج پر پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر اہم رہنما موجود ہیں۔

اتوار کی شام شروع ہونے والے جلسے میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے لاپتہ افراد اور فوج کے حراستی مراکز میں موجود افراد کی بات کی ہے اور مطالبہ کیا کہ "ٹرتھ اینڈ ریکنسلی ایشن” کمیشن بنایا جائے جس میں ماضی کی غلطیوں، کوتاہیوں کا اعتراف کیا جائے۔

محسن داوڑ نے کہا کہ ملک میں اصل جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رہنی چاہیے۔

جمعیت اہلحدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ موجودہ حکومت لانے کے پیچھے خاکی ہیں اور یہ سب کو معلوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نااہل افراد کا ٹولہ ہے۔

ساجد میر نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار مہنگائی نے عام لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے۔

بلوچستان کے سابق وزیراعظم عبدالمالک بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کے صوبے میں لوگوں کو لاپتہ کرکے لاشیں پھینکنے کا سلسلہ جاری ہے جس کو ہر صورت ختم کیا جائے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے