اڑھائی سال سے ای سی ایل پر مگر کیس کا معلوم نہیں: شاہد خاقان
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی ریفرنس کی سماعت میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نیب کی ملزمان پر فوری فرد جرم عائد کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔ دوسری جانب نیب سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کے خلاف نارروال اسپورٹس سٹی ریفرنس آج بھی دائر نہ کر سکا۔
منگل کو احتساب عدالت اسلام آباد کے جج اعظم خان نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر ملزمان کے خلاف ایل این جی ریفرنس کی سماعت کی۔
دو غیر ملکی گواہان کی طلبی کے نوٹس بھیجنے سے متعلق تعمیلی رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔ نیب نے فلپ ناٹمین اور شنا صادق کا کیس الگ کرنے کی درخواست کر دی اور موقف اپنایا کہ غیر ملکی گواہان کو نوٹس پہنچانے میں بہت وقت لگ جائے گا۔
نیب نے شاہد خاقان عباسی و دیگر پر فرد جرم کی استدعا کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ عدالت غیر ملکی ملزمان کا کیس الگ کر کے شاہد خاقان پر فرد جرم عائد کرے۔
شاہد خاقان کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ نے نیب دراخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی ملزمان نہیں آرہے تو پہلے وارنٹ جاری کیے جائیں۔ جج اعظم خان نے شاہد خاقان و دیگر پر فوری فرد جرم کی تاریخ مقرر کرنے کی نیب کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پہلے غیر ملکی ملزمان سے متعلق فیصلہ کریں گے کہ انہیں دوبارہ سمن بھیجنے ہیں یا وارنٹ۔ دفتر خارجہ کے ذریعے بھیجے گئے سمن کی تعمیلی رپورٹ آنے کا انتظار کر لیتے ہیں۔
عدالت نے کیس کی سماعت 11 نومبر تک ملتوی کردی۔
دوسری جانب نارووال اسپورٹس سٹی کیس میں نیب نے احسن اقبال کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے لئے ایک بار پھر مہلت مانگ لی۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کو آج تک ریفرنس کی مہلت دے رکھی تھی۔
نیب کے تفتشیی افسر نے پیشرفت رپورٹ احتساب عدالت میں جمع کراتے ہوئے موقف اپنایا کہ پری ایگزیکٹو بورڈ میں ریفرنس پیش ہوا تھا، ابھی ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ سے منظوری باقی ہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت 19 نومبر تک ملتوی کردی۔
مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ڈھائی سال سے ای سی ایل میں ہیں، حکومت اور نیب فیصلہ نہیں کر سکے ہمارے خلاف کیا کیس ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس عدالت میں ارشد ملک جج تھا وہاں انصاف کی کیا توقع رکھیں۔
شاہد خاقان نے کہا کہ کیپٹن صفدر کو تو ضمانت مل گئی، آئی جی سندھ کو ضمانت کون دے گا؟ آج اصل مسئلہ مہنگائی ہے۔
اس موقع پر ن لیگ کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے گرفتاریوں کے سیزن ٹو کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ جن اداروں نے دہشتگردی سے لڑنا تھا انہیں حکومت نے سیاسی جنگ میں لگا دیا۔ ہم گرفتاریوں کے سیزن ٹو کے لئے بھی تیار ہیں۔ عمران خان کے وزرا بار بار قومی اداروں کے پیچھے چھپ رہے ہیں، کبھی عدلیہ تو کبھی مسلح افواج کو سامنے کرتے ہیں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ گھناؤنا کھیل کھیل رہی ہے۔ تمام اداروں کو جھونک دیا گیا کہ کشمیر بھول جائیں ن لیگ کے خلاف کارروائی کریں۔ جن اداروں نے دہشتگردی سے لڑنا تھا انہیں سیاسی جنگ میں لگا دیا گیا۔
احسن اقبال نے کہا کہ ہماری مسلح افواج کی بہاری پر کسی کو شک نہیں ہے لیکن مسلح افواج کی پشت پر قومی یکجہتی اور مضبوط معیشت نہ ہوئی تو بہادری اکیلے کچھ نہیں کر سکتی۔

