ڈی آئی خان میں سوشل میڈیا پر سرگرم صحافی قتل
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں گومل جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری صحافی قیس جاوید کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق قیس جاوید پر مدینہ کالونی بلوچ چوک میں گھر میں داخل ہوتے وقت نامعلوم افراد نے فائرنگ کی۔
قیس جاوید کا تعلق مسیحی برادری سے تھا۔وہ دس سال تک جیو نیوز کے کیمرہ مین رہے اور اس کے بعد اپنا سوشل میڈیا چینل عہدنامہ چلا رہے تھے۔
منگل کی شام وہ بیٹے کے ہمراہ آفس سے اپنے گھر جا رہے تھے تو پہلے سے انتظار میں دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ان کے گھر کے باہر موجود تھے جوں ہی قیس جاوید اپنے گھر میں داخل ہوئے گھات لگائے مسلح شخص نے ان پر 9 ایم ایم پسٹل سے فائرنگ کر دی اور ہسپتال لے جاتے ہوئے وہ انتقال کر گئے۔
قیس جاوید نے سوگواروں میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی چھوڑے ہیں۔
قیس جاوید کے قتل پر ڈی آئی خان کی صحافی برادری نے تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے قتل کی تفتیش کے لیے جے آئی ٹی کی تشکیل سمیت FIR میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
گومل جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر محمد جاوید نے کہا ہے کہ قیس جاوید کی الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا میں خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کی وفات سے صحافت کا ایک درخشاں باب بند ہو گیا اور ڈیرہ کے عوام کی قیس جاوید سے محبت کا اظہار اس کے قتل کے بعد آنے والے ردعمل سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

