سرگودھا کی 8 سالہ منتہا، ’بچی دُکان سے چیز لینے گئی مگر لاش واپس آئی‘
صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں پولیس نے ایک آٹھ سالہ بچی کے مبینہ ریپ اور قتل کے الزام میں پانچ افراد کو گرفتار کر کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے حوالے کیا گیا ہے جس کے بعد اُن کے ماورائے عدالت قتل کا خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے۔
سرگودھا کے تھانہ سٹی میں اس واقعے کی ایف آئی آر 8 سالہ منتہا زہرا کے والد کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔ یہ ایف آئی آر قتل اور بچوں کے ریپ کی دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔
والد کی جانب سے مرکزی ملزم سمیت چار افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں درج تفصیلات اور پولیس کی جانب سے جاری کردہ معلومات میں اس حد تک فرق ہے کہ پولیس حکام اس کی توجیہہ کرنے سے قاصر ہیں۔
بظاہر مقدمے کے اندراج کے وقت پولیس نے کہانی بنائی اور مقتولہ کے والد سے کہلوائی-
مقتولہ کے والد کے مطابق چند دن قبل اُن کی قریبی دکاندار سے تلخی ہوئی تھی اور اس نے دھمکی دی تھی-
پولیس کے مطابق بچی کی لاش کو اہلکاروں نے تلاش کیا اور ملزم کو بعد ازاں گرفتار کیا جبکہ ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ بچی کی لاش اُس کے والد نے رشتہ داروں کے ہمراہ تلاش کی اور ملزم کو بھاگتے ہوئے پکڑا-
قتل کے اس واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور ملزمان کو کڑی سزا دینے کے مطالبے کے ساتھ والدین کو بھی اپنے بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری درست طور پر نبھانے کے لیے کہا ہے-

