’عدالت نے قانون کو نظرانداز کیا‘، عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے پر حکومتی نظرثانی دائر
حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے چیف کمشنر کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سزا یافتہ قیدی کو طبی علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کا معاملہ ‘پاکستان جیل رولز، 1978’ کے تحت طے پاتا ہے۔ مذکورہ قواعد کا قاعدہ 197 (Rule 197) سزا یافتہ قیدی کی ہسپتال منتقلی کے طریقہ کار اور انداز کا تعین کرتا ہے۔
درخواست میں متعلقہ قواعد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حوالہ کی آسانی کے لیے قاعدہ 197 ذیل میں درج کیا جا رہا ہے:
’قاعدہ 197۔ (i) جب کسی سزا یافتہ یا زیرِ سماعت قیدی کو آپریشن یا کسی ایسے خصوصی علاج کے لیے جیل سے باہر ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہو جو جیل کے اندر آسانی سے ممکن نہ ہو: (a) ان صورتوں میں جہاں سزا یافتہ یا انڈرٹرائل (وہ جن کے مقدمات ابھی عدالتوں میں ہوں اور سزا نہ ہوئی ہو) قیدی کو علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کرنا مقصود ہو، حکومت کے احکامات انسپکٹر جنرل کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے؛ تاہم ہنگامی حالات میں جیل سپرنٹنڈنٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ حکومتی منظوری ملنے سے قبل ہی (پیشگی) کارروائی کر لے، اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اسے انسپکٹر جنرل کے ذریعے فوری رپورٹ پیش کرنی چاہیے۔‘
(b) ان صورتوں میں جہاں سزا یافتہ یا زیرِ سماعت قیدی کو صرف ‘آؤٹ پیشنٹ’ (بیرونی مریض) کے طور پر علاج یا ایکسرے/معائنے کے لیے ہسپتال لے جایا جا رہا ہو، تو جیل سپرنٹنڈنٹ کو اس دورے کی خود اجازت دینے کا اختیار حاصل ہے۔
(ii) سپرنٹنڈنٹ کو حکومتی منظوری سے قبل کارروائی کرنے کا جو اختیار دیا گیا ہے، اس کا اطلاق ان معاملات پر نہیں ہوتا جن میں قیدی کو کسی دوسرے سٹیشن (شہر/علاقے) کے ہسپتال منتقل کرنے کی تجویز ہو۔ ایسے معاملات میں انسپکٹر جنرل کے احکامات پیشگی حاصل کرنا لازمی ہے، اور انسپکٹر جنرل ان تمام معاملات میں حکومت کو فوری رپورٹ پیش کرے گا جن میں وہ منظوری ملنے سے قبل قیدیوں کو اس طرح منتقل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
(iii) ان تمام معاملات میں جہاں قیدی کو آپریشن کے مقصد سے ہسپتال منتقل کیا جائے، منتقلی کا عمل آپریشن کے لیے مقررہ وقت کے جتنا ممکن ہو قریب انجام دیا جانا چاہیے اور جیسے ہی آسانی سے ممکن ہو، قیدی کو واپس جیل کے ہسپتال لایا جانا چاہیے۔
(iv) جیل سے باہر ہسپتال میں داخل قیدیوں کی نگرانی ہمیشہ پولیس کے ذریعے کی جائے گی۔
(v) جیل سے آنے والے قیدیوں کے علاج کے سلسلے میں ہسپتال کے حکام کے تمام اخراجات محکمہ صحت برداشت کرے گا۔”
حکومت کی جانب سے دائر نظرثانی درخواست میں جیل کے قواعد کا حوالہ دینے کے بعد کہا گیا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا قانونی شق معزز عدالت کی نظر سے اوجھل رہی، جس کے نتیجے میں ریکارڈ پر ایک نمایاں غلطی سرزد ہوئی۔ اگر عدالت قانون کی اس شق کا نوٹس لیتی تو زیرِ نظر حکم جاری نہ کیا جا سکتا تھا۔ لہٰذا، یہ معاملہ نظرِ ثانی کا مستحق ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 10A منصفانہ ٹرائل اور قانونی عمل (due process) کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ قانونی عمل کے تقاضوں میں دونوں فریقین کو سماعت کے بارے میں مناسب نوٹس کی فراہمی شامل ہے۔
نظرثانی درخواست کے مطابق زیرِ بحث مقدمے میں فوجداری اپیل پہلی بار سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھی اور اس مرحلے پر نہ تو بینچ کی جانب سے سماعت کا کوئی نوٹس جاری کیا گیا اور نہ ہی عدالت نے اپیل کی اجازت (leave to appeal) دی۔ خود درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے، اور عدالت میں موجود قانونی افسر نے بھی یہ نکتہ اٹھایا تھا۔ اس کے باوجود معزز عدالت نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کے اہم سوال کو مؤخر کر دیا اور ایک متعلقہ معاملے میں جمع کرائی گئی رپورٹ کی بنیاد پر بظاہر (prima facie) یہ رائے قائم کر لی کہ رپورٹ سے فریقِ مخالف (respondent) کی بگڑتی ہوئی صحت کا اشارہ ملتا ہے، حالانکہ رپورٹ میں ایسی کوئی بات موجود نہیں تھی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ فریقِ مخالف کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے وضع کردہ قانون کے مطابق کسی مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت عبوری مرحلے پر صرف وہی ریلیف (داد رسی) دے سکتی ہے جو نوعیت میں عبوری ہو؛ کسی بھی صورت میں عبوری مرحلے پر حتمی ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔
زیرِ بحث حکم نامے میں عدالت نے اپیل میں فریقِ ثانی (respondent) کی استدعا کا ذکر کیا ہے، جس میں وہ درج ذیل مطالبات کر رہا ہے: (i) آنکھوں کے علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی، (ii) ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف تک رسائی کی اجازت تاکہ وہ معائنے اور علاج کے تمام مراحل میں شامل ہو سکیں؛ (iii) طبی معائنے اور علاج کے دوران خاندان کے افراد کو مناسب اطلاع اور ان تک رسائی کی اجازت، اور (iv) درخواست گزار کے طبی معائنے/رپورٹ کی تصدیق شدہ کاپی اس کے وکیل کو فراہم کی جائے۔
زیرِ نظر حکم نامے کے ذریعے ان چاروں مطالبات کو عبوری اقدام کے طور پر مکمل طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔
اس طرح زیرِ نظر حکم نامے نے فریقِ ثانی کو نوٹس دیے بغیر ہی ابتدائی مرحلے پر پورے مقدمے کا فیصلہ کر دیا ہے۔ اب فیصلے یا عدالتی کارروائی کے لیے کچھ بھی باقی نہیں بچا۔ ایسا طریقہ کار قانون کی رو سے درست نہیں اور سپریم کورٹ نے ہمیشہ اس کی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ لہٰذا، زیرِ بحث حکم نامہ طے شدہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے، اس لیے کالعدم کیا جائے-
مزید کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 25 مساوی سلوک کا بنیادی حق عطا کرتا ہے۔ آئین امتیازی سلوک اور جانبداری کی سختی سے نفی کرتا ہے۔ کسی مجرم کے نجی ہسپتال میں علاج کا حکم—اور وہ بھی ایسی رپورٹ کی بنیاد پر جس میں فوری طبی امداد کی ضرورت والی کسی حالت کا ذکر نہ ہو—فوجداری انصاف کے پورے نظام کو شدید طور پر درہم برہم کر دے گا۔ اسی جیسی صورتحال کے حامل دیگر مجرم بھی جیل کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فریقِ مخالف (respondent) کو دیے گئے اسی خصوصی سلوک کا مطالبہ کریں گے۔
لہٰذا زیرِ بحث حکم امتیازی نوعیت کا حامل ہے کیونکہ اسی جیسی صورتحال کے حامل دیگر قیدیوں کو اپنی پسند کے نجی ہسپتال میں طبی علاج کا وہی موقع فراہم نہیں کیا گیا۔
حکومتی درخواست کے مطابق اگر عبوری حکم واپس نہ لیا گیا تو یہ ایسے قیدیوں کے سیلاب کا باعث بنے گا جو اسی طرح کی رعایت کے خواہاں ہوں گے، حالانکہ موجودہ قانون کے تحت ایسی رعایت نہیں دی جا سکتی۔ معزز عدالت اس بات کا نوٹس لینے میں ناکام رہی کہ فوجداری پی ایل اے (Criminal P.L.A) میں فریقِ مخالف دراصل ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر، اسلام آباد ہے۔ زیرِ نظر حکم جاری کرنے سے قبل نہ تو درخواست گزار اس مقدمے کا فریق تھا اور نہ ہی اسے کوئی نوٹس جاری کیا گیا۔ محض اسی بنیاد پر زیرِ بحث حکم کی واپسی لازم ہے کیونکہ یہ انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
آخر میں سرکار نے کہا ہے کہ درخواست گزار نظرِ ثانی کی درخواست کی سماعت کے وقت اضافی نکات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔