امریکی ریاست مشی گن میں مسلم مخالف رہنما کی آمد پر کشیدگی، متعدد مظاہرین گرفتار
ڈیئربورن، مشی گن: امریکا کی ریاست مشی گن کے شہر ڈیئربورن میں خود کو اسلام مخالف کارکن قرار دینے والے جیک لینگ کی آمد کے موقع پر شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی، جہاں منگل کی شام سینکڑوں افراد جمع ہوئے اور مختلف گروپوں کے درمیان تلخ نعرے بازی اور تصادم کی صورتحال پیدا ہوگئی۔
ڈیئربورن پولیس کے مطابق صورتحال کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا، تاہم فوری طور پر گرفتاریوں کی حتمی تعداد جاری نہیں کی گئی۔ پولیس نے واضح کیا کہ کسی بھی گروپ سے تعلق رکھنے والے شخص کی جانب سے غیر قانونی سرگرمی پر کارروائی کی جائے گی۔
31 سالہ جیک لینگ سابق امریکی سینیٹ امیدوار ہیں اور 6 جنوری 2021 کو امریکی کیپیٹل پر حملے سے متعلق مقدمے میں تقریباً چار سال جیل میں رہے۔ بعد ازاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں معافی دے دی تھی۔ حالیہ مہینوں میں یہ کم از کم تیسرا موقع تھا جب لینگ نے ڈیئربورن کا رخ کیا۔
جیک لینگ بلٹ پروف جیکٹ پہن کر ہنری فورڈ سینٹینیئل لائبریری کے باہر پہنچے، جہاں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات تھے۔ کشیدگی بڑھنے پر ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کے لیے خصوصی لباس میں پولیس اہلکار بھی ہجوم کے درمیان تعینات کیے گئے جبکہ گھڑ سوار پولیس نے بھی علاقے کی نگرانی کی۔
لینگ نے میگا فون کے ذریعے اسلام، مسلمانوں اور شرعی قوانین کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیے۔ انہوں نے امریکی سینیٹ کے امیدوار عبدالسید کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ بھی کیا، حالانکہ عبدالسید مشی گن میں پیدا ہوئے ہیں۔ لینگ کے ہاتھ میں ایک پلے کارڈ بھی تھا جس پر لکھا تھا: “Jesus Christ is King of Dearborn.”
بعد ازاں لینگ نے ڈیئربورن سٹی کونسل کے اجلاس کے عوامی تبصرے کے حصے میں تقریباً دو منٹ خطاب کیا، جہاں انہوں نے مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز ریمارکس دیے اور ایک مبینہ “کرسچن کروسیڈ” کا ذکر کیا۔
دوسری جانب مظاہرین نے “Jake Lang has got to go” کے نعرے لگائے۔ پولیس نے لینگ کے گرد حفاظتی حصار قائم رکھا تاکہ فریقین کو ایک دوسرے سے دور رکھا جاسکے۔
ڈیئربورن کے میئر عبداللہ حمود نے سٹی کونسل اجلاس کے دوران کہا کہ لینگ کی آمد سے مقامی کمیونٹی میں خوف پیدا ہوا۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنی بیٹی کو منگل کے روز ڈے کیئر نہیں بھیجا جبکہ بعض کاروباری افراد نے بھی اپنے کاروبار بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔
مشی گن کی گورنر گریچن وائٹمر نے بھی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے لینگ کی سرگرمیوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی سرگرمیاں خطرناک رویوں کو تقویت دیتی ہیں اور “نفرت کی مشی گن میں کوئی جگہ نہیں۔”
ڈیئربورن امریکا میں عرب اور مسلم آبادی کے سب سے بڑے مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ شہر کے حکام نے واقعے سے قبل شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ لینگ اور ان کے حامیوں سے براہ راست تصادم سے گریز کریں اور ایسے عناصر کو وہ ردعمل نہ دیں جس کے حصول کے لیے وہ شہر آتے ہیں۔
جیک لینگ اس سے قبل بھی ڈیئربورن میں مظاہروں میں شریک ہوچکے ہیں۔ رواں ماہ کے آغاز میں اربعین کے ایک بڑے مذہبی جلوس کے دوران بھی ان کی موجودگی پر تصادم ہوا تھا، جس کے بعد تین افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

