جعلی مقابلہ کرانے والے چار پولیس اہلکاروں کو ہائیکورٹ سےسزا
سندھ ہائیکورٹ نے جعلی مقابلے میں دو شہریوں کو قتل کرنے والے چار پولیس اہلکاروں کو قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
منگل کو سندھ ہائیکورٹ نے پولیس اہلکاروں کو 6،6 ماہ قید کی سزا سنائی اور ان پر 50،50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔
جعلی مقابلے میں شہریوں کو قتل کرنے والے پولیس اہلکاروں میں نارتھ ناظم آباد تھانے کے ہیڈ کانسٹبل رانا طارق، اے ایس آئی نجف علی، باغ علی اور شیر گوپانگ شامل ہیں۔
سزا سنائے جانے کے بعد پولیس اہلکاروں کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس اہلکاروں نے نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں 22 اگست 2018 کو پولیس مقابلے کا دعویٰ کیا تھا۔ مقابلے میں ایک ملزم اویس جعفری کو قتل اور ارشد کو زخمی حالت میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم ارشد کو عمر قید کی سزا سنائی جو بعد میں ہائیکورٹ سے اپیل میں بری ہوگیا تھا۔
جعلی مقابلہ کرانے والے پولیس اہلکار عدالت کے سوالوں کا جواب نہ دے سکے۔ پولیس اہلکار تفتیش میں مقابلہ ثابت کرنے میں ناکام رہے۔
وکیل نے کہا کہ اگر ایک دن کی بھی سزا ہوگی تو ان کی نوکری چکی جائے گی۔ جسٹس نذر اکبر نے ریمارکس دیے کہ 2 آدمی اور ماریں گے تو کیا ان کا ان کا پروموشن ہوجائے گا؟
وکیل کی جانب سے تحقیقاتی ٹیم بنانے کے سوال پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ کس چیز کی جی آئی ٹی ہوگی، کیا یہ ان کو سننے کا چانس نہیں دیا جا رہا؟یہ لوگ شہریوں کو سر میں گولی مار دیتے ہیں وہ بھی رات کو تین بجے۔
جسٹس نذر اکبر نے پوچھا کہ کیا ان کو کوئی جان کا خطرہ تھا،انہوں نے میڈیکل رپورٹ چھپا دی تھی، ایک آدمی کو پیچھے سے گولی مار دی گئی، عید کا دن تھا کم سے کم عید کے دن تو کوئی ڈکیتی نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب کسی بے گناہ کی عید جیل میں گزر سکتی ہے تو ان کو بھی تو عید کے بعد تک جیل جانا چاہیے۔
جسٹس نذر اکبر نے وکیل سے کہا کہ کلنگ تو ہوگئی، اپ خود کہہ رہے ہیں کے اس بندے کو پیچھے سے گولی لگی ہے۔ ناقص تفتیش ہے یا نہیں اگر ناقص ہے تو اس کی سزا کیا ہوتی ہے آپ ہی بتا دیں؟

