پاکستان24

حکومت کا سینیٹ الیکشن ’شو آف ہینڈز‘ کے ذریعے قبل از وقت کرانے کا فیصلہ

دسمبر 15, 2020

حکومت کا سینیٹ الیکشن ’شو آف ہینڈز‘ کے ذریعے قبل از وقت کرانے کا فیصلہ

پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت نے وفاقی پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے الیکشن ‘شو آف ہینڈ’ کے ذریعے اور مارچ کے بجائے فروری میں کروانے کے لیے الیکشن کمیشن سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی کابینہ نے مارچ میں ہونے والے سینیٹ انتخابات کو فروری میں شیڈول کروانے کے لیے الیکشن کمیشن سے باضابطہ درخواست دینے کا فیصلہ کیا یے۔

کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں میڈیا بریفنگ میں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بتایا کہ اس بار ایوان بالا کے انتخابات میں شو آف ہینڈ  کے ذریعے ووٹنگ کرائیں گے۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے سینیٹ الیکشن میں کوئی خرید و فروخت نہ ہو۔

دوسری جانب کئی وزرا نے میڈیا کے نمائندوں کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کابینہ اجلاس میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے مشاورت ہوئی جس میں کابینہ نے سینیٹ الیکشن فروری میں کروانے کے لیے حکمت عملی طے کرنے کا فیصلہ کیا۔

وزیر تعلیم شفقت محمود نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں سینیٹ الیکشن فروری میں کرانے کی صرف تجویز آئی تھی اور اس حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ سینیٹ کے انتخابات مقررہ وقت سے قبل کرانے کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے قانونی کارروائی کیا جانا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ شو آف ہینڈ میں ارکان خفیہ ووٹنگ کے بجائے ہاتھ اٹھا کر کے امیدوار کے حق یا مخالفت میں ووٹ دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن پر آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ سے رہنمائی لیں گے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ سینیٹ انتخابات شو آف ہینڈ کے ذریعے ہو تاکہ انتخابات میں شفافیت کو یقینی بنائی جائے۔

شبلی فراز کا مزید کہنا تھا ’سینیٹ انتخابات کا طریقہ کار کیسے تبدیل کیا جائے؟ آئین میں ترمیم ہو، قانون سازی یا ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے ہو اس سلسلے میں سپریم کورٹ سے رہنمائی لیں گے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے