نیب کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں ہوگی: عدالت
سپریم کورٹ میں جعلی بنک اکاونٹس کیس کے ملزمان ڈاکٹر ڈنشا اور جمیل بلوچ کی ضمانت سےمتعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے آئندہ سماعت پر چیئرمین نیب کو طلب کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
عدالت کی جانب سےآبزرویشن دی گئی کہ نیب قانون کے مطابق اور شفافیت کیساتھ دیگر ملزمان کیخلاف کاروائی کرے، تمام ملزمان کیساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ نیب کیوجہ سے لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سپریم کورٹ میں جعلی بنک اکاونٹس کیس کے ملزمان ڈاکٹر ڈنشا اور جمیل بلوچ کی ضمانت سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے کہا کہ نیب قانون کے مطابق اور شفافیت کیساتھ دیگر ملزمان کیخلاف کاروائی کرے، تمام ملزمان کیساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔
عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اگر نیب پیش رفت دکھانے میں ناکام رہا تو آئندہ سماعت پر چیئرمین نیب ذاتی حیثیت میں پیش ہوں،،احتساب کیلئے تحقیقات کرنا نیب کے اخیتار میں ہے،،شہریوں کی آزادی اور بنیادی حقوق کا تحفظ سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے،29 ملزمان میں سے 2 کے علاوہ دیگر کیخلاف کاروائی نہ کرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ ہم اس کیس میں نیب کی کارکردگی سے مطمئن نہیں، نیب کی وجہ سے لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے۔
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ ڈاکٹر ڈنشا جیسے عمر رسیدہ شخص کو پکڑ لیا باقی 27 لوگ آزاد ہیں۔
جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہ رویہ جانبداری ظاہر کرتا ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ عوامی عہدہ رکھنے والوں کا احتساب ہر صورت ہونا چاہیے، نیب اپنے قانون کا اطلاق سب پر یکساں نہیں کر رہا،کیس کی سماعت آئندہ برس 6 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔

