ابصار عالم نے ایف آئی اے کے نوٹس کو عدالت میں چیلنج کر دیا
سینیئر صحافی اور سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم کی ایف آئی اے میں طلبی کے نوٹسز کو ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
ابصار عالم نے ایف آئی اے کے بغیر تاریخ جاری نوٹس کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے وفاق کو بذریعہ سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی سائبر کرائم اور انسپکٹر مظہر شاہ کو فریق بنایا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے شکایت کی کاپی فراہم کیے بغیر پیش ہونے کا نوٹس دیا جو مقررہ وقت گزرنے کے بعد موصول ہوا۔
ابصار عالم کے مطابق نوٹس چیلنج کرنے کے لیے پٹیشن ڈرافٹ کرنے کے مرحلے میں تھی کہ طلبی کا دوسرا بغیر تاریخ کے نوٹس ملا۔ ایف آئی اے کو شکایت کی نقل اور اس کے ساتھ جمع کرایا گیا مواد فراہم کرنے کا کہا مگر جواب نہیں دیا گیا۔
درخواست میں ابصار عالم نے ہائیکورٹ کو بتایا ہے کہ اگر شکایت کی کاپی اور متعلقہ مواد شیئر کیا جائے تو انکوائری میں پیش ہونے کو تیار ہوں۔
ابصار عالم نے کہا ہے کہ حکومتی پالیسیوں سے اختلاف اور تنقید کے باعث آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تجربہ کار صحافی، ممبر پی ایف یو جے اور سابق چیئرمین پیمرا ہوں، انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہوں۔
ابصار عالم کے مطابق سائبر کرائم قوانین کے غلط استعمال کی کوشش کی جا رہی ہے، ہمیشہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کے لیے آواز اٹھائی، قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کی بات کی، ایف آئی اے کے نوٹسز کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
ابصار عالم کی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ایف آئی اے کو گرفتاری، تضحیک اور ہراساں کرنے سے روکا جائے، دمدرخواست پر حتمی فیصلے تک ایف آئی اے کو پٹیشنر کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے روکنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

