پاکستان24

سپریم کورٹ: پنجاب کے بلدیاتی ادارے بحال کرنے کا حکم

مارچ 25, 2021

سپریم کورٹ: پنجاب کے بلدیاتی ادارے بحال کرنے کا حکم

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے صوبے کے بلدیاتی ایکٹ کے سیکشن 3 کو آئین سے متصادم قرار دے دیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا آرٹیکل 140 کےتحت قانون بنایا جا سکتا ہے اداروں کو ختم نہیں کرسکتے۔ کسی نےایکٹ لانے کا غلط مشورہ دیا ہے۔

جمعرات کو سپریم کورٹ میں بلدیاتی انتخابات سےمتعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے بیان دیا کہ پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کرانےکےلیےتیارہے، معاملہ ابھی مشترکہ مفادات کونسل میں زیرالتوا ہے۔

چیف جسٹس نےاستفسار کیاکیاباقی صوبوں میں بلدیاتی انتخاب ہورہے ہیں؟۔ اٹارنی جنرل نےجواب دیاباقی صوبوں کےمردم شماری پراعتراضات ہیں،مشترکہ مفادات کونسل کااجلاس چوبیس مارچ کوہونا تھا، وزیراعظم کوکروونا کی وجہ سےاب اجلاس سات اپریل کوہوگا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل کا بیان ریکارڈ کرلیتےہیں صوبےمئی میں بلدیاتی انتحاب کروادیں۔ اٹارنی جنرل نےکہا یہ صرف وفاق کا نہیں بلکہ صوبوں کا بھی معاملہ ہے۔

چیف جسٹس نےاستفسارکیا پنجاب کی لوکل حکومتوں کوکیوں ختم کیا گیا ؟۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے پنجاب کی بلدیاتی حکومتوں کی ٹرم بھی اب ختم ہوگئی ہوگی۔

درخواست گزار کےوکیل نےعدالت کےروبرو بیان دیا کہ پنجاب میں بلدیاتی حکومتوں کی میعاد دسمبر2021 تک تھی، 2018 انتخابات کےبعد پنجاب اوروفاقی میں نئی جماعت کی حکومت آئی، نئی پنجاب حکومت نےبلدیاتی حکومتیں تحلیل کرکےایک سال میں الیکشن کرانےکا وقت دیا، ایک سال کی مدت گزرے کےبعد پنجاب حکومت نےنئی ترمیم کی اور پھر آرڈیننس جاری کیا۔جسٹس مظاہر نقوی نےاستفسارکیا کہ باقی صوبوں میں بلدیاتی حکومتوں نےاپنی مدت کو پورا کیا؟

چیف جسٹس نےریمارکس دیئے کہ عدالت کے سامنے پنجاب کا 2019 کا بلدیاتی قانون چیلنج کیا گیا ہے،کیا درخواست گزار چاہتا ہے قانون کے سیکشن تین کو کالعدم کر دیں۔

عدالت نے بلدیاتی ایکٹ کے سیکشن 3 کو آئین سے متصادم قراردے کر پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس نے کہا آرٹیکل 140 کےتحت قانون بنایا جا سکتا ہے اداروں کو ختم نہیں کرسکتے۔ کسی نےایکٹ لانے کا غلط مشورہ دیا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے