کورونا سے متاثرہ گواہ عدالت میں، سب بھاگ گئے
کورونا سے متاثرہ گواہ اسلام آباد کی احستاب عدالت پہنچ گیا۔ خوف و ہراس پھیلنے پر جج اعظم خان نےفوری طور پر کمرہ عدالت خالی کرا لیا۔
جمعے کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر دو میں کرپشن ریفرنس کی سماعت کے دوران کورونا وائرس میں مبتلا نیب گواہ بیان ریکارڈ کرنے عدالت پہنچ گیا۔
گواہ امیرحیدر روسٹروم پر آئے اور جج سے رخصتی کی استدعا کی، کہا کہ بیمار ہوں جانے کی اجازت دی جائے۔
جج اعظم خان نے استفسار کیا کہ آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ امیر حیدر ملک نے کہامجھے کورونا تشخیص ہو اہے،آئیسولیشن سے اٹھ کر عدالت میں پیش ہوا ہوں۔
بیان سنتے ہی کمرہ عدالت میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
جج نےفوری طور پر کمرہ عدالت کو سائلین اور وکلاء سے خالی کرالیا۔ انتظامیہ نےبروقت ایکشن لیتے ہوئے جراثیم کش ادوایات کا اسپرے کیا۔
احتساب عدالت میں ایل این جی ریفرنس کی سماعت ملتوی کیے جانے کے بعد شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگومیں کہااحتساب کا ادارہ انتقام کا ادارہ بن گیا ہے، جب عدالتیں سیاسی ادارہ بن جائےتولوگ مشتعل ہوتے ہیں۔
”جب عدالتیں سیاسی ادارہ بن جائےتولوگ مشتعل ہوتے ہیں، کیا نیب کے چیئرمین نے کبھی آئین پڑھا ہےسپریم کورٹ کہہ چکی نیب پولیٹیکل انجینئرنگ کرتا ہے احتساب کے ادارے کس کے حکم پر چلتے ہیں سب لوگ جانتے ہیں،عدالتوں میں کیمرے لگیں اور عوام سرکس دیکھیں۔“
شاہدخاقان عباسی نےکہاحکومت نےملک کو مذاق بنالیاہے، وزیراعظم نے آئسولیشن میں کورونا کے بجائے مریم نواز پر اجلاس کیا۔
”وزیراعظم کاشکریہ کہ کورونامیں بھی اجلاس بلاکرمریم نواز کو زیر بحث لائے،انہیں اجلاس کورونا پر کرنا چاہیے تھا لیکن انہوں نے مریم نواز پر کیا،پاکستان دنیاکاواحد ملک ہے جس نے ابھی تک کورونا کا ایک ٹیکا تک نہیں خریدا، این سی او سی مذاق کرتی ہے۔“
سابق وزیراعظم کاکہناتھامسئلہ کشمیرپرملاقاتیں آخر بند کمرے میں کیوں ہوتی ہیں، کشمیر پرپارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں نہیں لیا کیا معاہدہ ہوا ہے؟ ہم سننا چاہتے ہیں کہ سیکیورٹی کونسل کی قرارداد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

