عالمی خبریں

عراقی وزیراعظم پر حملے میں ایرانی ساختہ ڈرون استعمال کیے گئے: حکام

نومبر 9, 2021

عراقی وزیراعظم پر حملے میں ایرانی ساختہ ڈرون استعمال کیے گئے: حکام

عراق کے سکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ ملک کے وزیراعظم کے قتل کی کوشش تہران کی حمایت یافتہ ملیشیا نے ایرانی ساختہ دھماکہ خیز مواد سے لدے ڈرونز کے ذریعے کی تھی۔

اتوار کی صبح عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی اس وقت بال بال بچ گئے جب بغداد کے گرین زون میں ان کی رہائش گاہ کو تین ڈرونز نے نشانہ بنایا۔

سکیورٹی فورسز دو ڈرونز کو روک کر تباہ کر نے میں کامیاب ہوئیں لیکن تیسرے ڈرون کے دھماکے سے عمارت کو نقصان پہنچا اور وزیراعظم کے کئی ذاتی محافظ زخمی ہوئے۔

وزیراعظم پر اس قاتلانہ حملے نے عراق میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے، جہاں طاقتور ایرانی حمایت یافتہ نجی عسکری تنظیمیں گذشتہ ماہ ہونے والے پارلیمنٹ کے انتخابات کے نتائج پر تنازع پیدا کر رہی ہیں۔
ان تنظیموں کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور پارلیمنٹ میں ان کی طاقت بہت کم ہوگئی ہے۔

بہت سے عراقیوں کو خدشہ ہے کہ اگر اس طرح کے مزید واقعات ہوئے تو کشیدگی وسیع تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے جو مسلکی اختلافات کو بڑھاوا دینے کا سبب بنے گی۔

وزیراعظم پر حملے کے اگلے دن بغداد کی سڑکیں معمول سے زیادہ خالی اور خاموش تھیں، اور دارالحکومت میں اضافی فوجی اور پولیس چوکیاں ممکنہ تشدد پر قابو پانے کے ارادے سے دکھائی دیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے