صدر اردوغان کی ’توہین‘ پر جیل، خاتون صحافی نے کیا کہا تھا؟
ترکی میں سرکاری استغاثہ کی جانب سے خاتون صحافی صدف کباس پر صدر اردوغان کی توہین کی فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد عدالت نے ان کو جیل بھیج دیا ہے۔
ترک ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق صدر کی توہین کا الزام ثابت ہونے پر قانون کے تحت خاتون صحافی کو ایک سے چار برس قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
اپوزیشن کے ایک ٹی وی چینل پر خاتون صحافی نے انٹرویو کے دوران صدر اردوغان پر تنقید کرتے ہوئے صدارتی محل کو ایک گودام یا کباڑ خانہ قرار دیا تھا۔
صدف کباس نے یہ الفاظ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بھی پوسٹ کیے تھے۔
ترکی میں قانون کے مطابق صدر کی توہین کی سزا مقرر ہے۔
حکام نے گزشتہ برسوں کے دوران سوشل میڈیا پر ترک صدر پر تنقید یا ان کی توہین کرنے والے ہزاروں افراد کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔

