اخباری مالک محسن بیگ سے پویس تفتیش مکمل، اڈیالہ جیل منتقل
اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اخباری مالک محسن بیگ کو مزید جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی حراست میں دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے پر اڈیالہ جیل بھیج دیا ہے۔
بدھ کو محسن بیگ کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر پولیس نے انہیں انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا.
جج محمد علی وڑائچ نے پولیس کے پراسیکیوٹر سے پوچھاکہ کیا تفتیش مکمل ہو گئی ہے جس پر مارگلہ پولیس نے کہا کہ ویڈیو لینی ہے اس لیے مزید دو دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جاتی ہے.
جج نے استفسار کیا کہ کون سی ویڈیو لینی ہے کیا پولو گرافکس ٹیسٹ ہو گیا ہے جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ پولو گرافکس ٹیسٹ ہو چکا ہے۔
ملزم کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ ’تھانے میں ہمیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی۔ مقدمہ میں صرف پسٹل کا ذکر ہے اب ویڈیو کا بہانہ بنایا جا رہا ہے۔ جس باکس کا کہہ رہے ہیں وہ باکس پولیس اٹھا کر لے جا چکے ہیں۔‘
’پولیس نے آٹھ دن کے ریمانڈ میں ابھی تک کیا تفتیش کی ہے؟ سو میٹر دوری پر جائے وقوعہ ہے اور ابھی تک کہہ رہے ہیں ویڈیو قبضہ میں لینی ہے۔ عدالتی حکم کے باوجود ہمیں ملنے نہیں دیا جا رہا یہ توہین عدالت ہے۔ مزید جسمانی ریمانڈ نہ دیا جائے۔‘
انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس کی مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی۔
عدالت نے محسن بیگ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا ہے اور جوڈیشل ریمانڈ کے بعد دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

