پاکستان

نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اعلامیے میں کسی سازش کا ذکر نہیں: جنرل بابر افتخار

اپریل 14, 2022

نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اعلامیے میں کسی سازش کا ذکر نہیں: جنرل بابر افتخار

پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ افواج پاکستان اور اس کی لیڈر شپ کے خلاف منظم مہم چلائی جا رہی ہے۔

جمعرات کو راولپنڈی میں پریس بریفنگ میں فوج کے ترجمان نے کہا کہ عوام اور سیاسی جماعتوں سے درخواست ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹیں، ہم اس سے باہر رہنا چاہتے ہیں۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ ریٹائڑد ملٹری افسران کی فیک آڈیوز چلا کر ملک میں انتشار پھیلایا جا رہا ہے۔ افواج پاکستان کی قیادت کے خلاف پروپیگنڈا مہم چلائی جا رہی ہے، یہ مہم نہ پہلے کامیاب ہوئی اور نہ آئندہ ہونے دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ افواہوں کی بنیاد پر کردار کشی کسی صورت قابل قبول نہیں۔

فوجی ترجمان نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے اعلامیے میں کسی سازش کا ذکر نہیں.

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سابق وزیراعظم کے سامنےآپشنز اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے نہیں رکھے گئے تھے، افسوس ہے کہ سیاسی قیادت آپس میں بات کرنے کو تیار نہ تھی. درخواست پر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی وزیراعظم ہاؤس گئے.

جنرل بابرافتخار نے کہا کہ وزیراعظم آفس سے آرمی چیف کو کہا گیا کہ ڈیڈلاک ہے بیچ بچاؤ کروائیں.

وزیراعظم شہباز شریف کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے طبیعت ناساز ہونے کہ وجہ سے آرمی چیف نے شرکت نہیں کی تھی اور اس دن وہ دفتر بھی نہیں آئے تھے۔

دو روز قبل آرمی چیف کی زیر صدارت فارمیشن کمانڈرز کانفرنس سے متعلق انہوں نے بتایا کہ وہاں موجود اعلیٰ قیادت نے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے پر مکمل اتفاق کیا اور اسے درست سمت میں بہترین قدم قرار دیا ہے۔

’سب نے اتفاق کیا کہ جمہوریت، اداروں کی مضبوطی، قانون کی بالادستی اور سب اداراوں کا آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنا ہی بہترین ملکی مفاد کی ضمانت ہے۔ عوام کی حمایت مسلح افواج کی طاقت کا منبع ہے۔ اس کے بغیر قومی سلامتی کا تصور بے معنی ہے۔ اس لیے کوئی بھی دانستہ یا نہ دانستہ کوشش جو عوام اور افواج پاکستان کے درمیان دراڑ ڈالنے کا باعث بنے وسیع تر قومی مفاد کے منافی ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ کانفرنس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ تعمیری تنقید مناسب ہے لیکن افواہوں کی بنیاد ہر سازشوں کے تانے بانے جوڑنا اور بے بنیاد کردار کشی کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔

’اس حوالے سے افواج پاکستان اور اس کی قیادت کے خلاف منظم اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا مہم چلائی جا رہی ہے۔ حتیٰ کہ ڈیپ فیپ ٹیکنالوجی کا ستعمال کر کے ریٹائرڈ ملٹری افسران کے فیک آڈیو پیغامات چلائے جارے ہیں تاکہ عوام اور افواج پاکستان کے درمیان انتشار پھیلایا جائے۔ جو کام دشمن سات دہائیوں میں نہیں کر سکا وہ ہم آئندہ بھی نہیں ہونے دیں گے۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’عوام اور سیاسی جماعتوں سے درخواست ہے کہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں۔ ہم اس سے باہر رہنا چاہتے ہیں، ہمیں اس بیانیے سے باہر رکھیں۔‘

انہوں نے غیر ملکی مراسلے کے حوالے سے کہا کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اعلامیے سازش کا لفظ شامل نہیں ہے، پاکستان کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

امریکی سفارتکار کو بلا کر ’ڈی مارش‘ پر سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’ڈی مارش دیے جاتے ہیں۔ ڈی مارش صرف سازش پر تو نہیں دیے جاتے۔ ڈی مارش کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ جس طرح اس اعلامیے میں لکھا ہوا ہے کہ غیرسفارتی زبان استعمال کی گئی ہے۔ اس اعلامیے میں لکھا ہوا ہے کہ جو بات چیت کی گئی ہے وہ مداخلت کے مترادف ہے۔ تو اس کے اوپر ڈی مارش دیا جاتا ہے، یہ سفارتی طریقہ ہے اور یہی وہ الفاظ ہیں جن کے اوپر اتفاق کیا گیا اور اس کے مطابق ڈی مارش دیا۔‘

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ اعلامیے میں اندرونی معاملات میں مداخلت کا ذکر ہے اور غیر سفارتی زبان استعمال ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے خود فوج کی قیادت سے رابطہ کیا تھا، اسٹیبلشمنٹ نے گزشتہ حکومت کو کوئی آپشن نہیں دیا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ عوام اور فوج کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں۔
انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل جاوید باجوہ نہ تو مدت میں توسیع طلب کر رہے ہیں اور نہ ہی قبول کریں گے، آرمی چیف اپنی مدت پوری کر کے رواں سال 29 نومبر کو ریٹائر ہو جائیں گے۔

’پاکستان کا مستقبل جمہوریت میں ہی ہے اور کبھی بھی مارشل لا نہیں لگے گا۔‘

سیاسی جماعتوں کی جانب سے آرمی چیف پر تنقید سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘آرمی چیف ایک ادارے کے سربراہ ہیں اور اگر ادارے کے سربراہ پر بات کی جا رہی ہے تو حکومت وقت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اقدامات اٹھائیں۔ ہماری تو زبان نہیں ہے اور نہ ہم کسی ٹی وی چینل ہر جا کر ترکی بہ ترکی جواب دے سکتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’فوج یونٹی آف کمانڈ کے تحت چلتی ہے، جس سمت میں آرمی چیف دیکھتا ہے اسی طرف سات لاکھ فوجی بھی دیکھتے ہیں۔ فوج کے رینکس میں کسی قسم کی کوئی تقسیم نہیں ہے اور پوری فوج اپنی قیادت پر فخر کرتی ہے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے