پاکستان

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاکتیں، قومی اسمبلی میں احتجاج

اپریل 18, 2022

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاکتیں، قومی اسمبلی میں احتجاج

بلوچستان نیشنل پارٹی(بی این پی) مینگل نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاکتوں پر احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا ہے۔

پیر کو نکتہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے بی این پی کے آغا حسن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں ماورائے عدالت بلوچوں کا قتل عام جاری ہے۔ اس صورتحال میں ہم کس طرح حکومت میں بیٹھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نہتے مظاہرین پر گولیاں برسائی گئیں۔ سکیورٹی فورسز کو منہ زور چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس ملک میں بلوچوں کا خون سب سے سستا ہے۔

شہریوں کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف ایوان سے واک آوٹ کیا گیا۔

ادھر چاغی میں ایف سی کیمپ کے باہر احتجاج کرنے والے مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ سے نو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ ایک ہفتے میں یہ دوسری بار ہے جب فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی ہے۔

دوسری جانب بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے ضلع چاغی میں ڈرائیور کی ہلاکت سے پیدا کشیدہ صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر رخشاں ڈویژن سے صورتحال پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

وزیراعلی نے چیف سیکریٹری کو ڈی سی چاغی اور دالبندین اور تفتان کے اسسٹنٹ کمشنر کا فور ی تبادلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

وزیراعلی نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہا کہ ڈرائیور کی ہلاکت کے واقعے کی مکمل تحقیات کی جائیں گی۔اور لواحقین سے کسی قسم کی نا انصافی نہیں ہونے دی جاۓ گی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے