اہم خبریں

بائیکاٹ کرنے والے جانتے ہیں اپنا کام عبادت کی طرح کرتا ہوں: چیف جسٹس

جولائی 26, 2022 2 min

بائیکاٹ کرنے والے جانتے ہیں اپنا کام عبادت کی طرح کرتا ہوں: چیف جسٹس

Reading Time: 2 minutes

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ بائیکاٹ کرنے والے وکلا جانتے ہیں کہ وہ اپنا کام عبادت کی طرح کرتے ہیں۔

منگل کو چیف جسٹس کی عدالت میں تین وکلا نے کہا کہ ان کی جماعتوں نے کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔

سماعت کے آغاز پر پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے وکیل عرفان قادر نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے مؤکل نے ہدایات دی ہیں کہ کیس نہ لڑیں اور یہ فیصلہ ملکی تاریخ میں عدالتی کارروائی کے ایک غیر معمولی بائیکاٹ کے اعلان کے تحت کیا گیا۔ تاہم گزشتہ روز کے فُل کورٹ نہ بنانے کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کریں گے۔

چیف جسٹس نے دیگر وکلا سے پوچھا تو فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھی بائیکاٹ کیا ہے اس لیے وہ پیش نہیں ہوں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی بات نہیں کیونکہ آپ فریق نہیں تھے۔

فاروق نائیک نے بتایا کہ انہوں نے فریق بننے کی درخواست کر رکھی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دیگر وکلا کی بھی یہی رائے ہے؟ اس پر حکومتی اتحاد کے وکلا نے اثبات میں جواب دیا عدالت نے پرویز الہی کے وکیل علی ظفر سے کہا کہ وہ میرٹ پر دلائل کا آغاز کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فُل کورٹ بنانے کی درخواست اس لیے مسترد کی کہ ایک تو کوئی اہم قانونی سوال نہیں اور دوسرا اس سے معاملہ غیر ضروری التوا کا شکار ہوگا کیونکہ ستمبر سے قبل تمام ججز کا بینچ بنانا ممکن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو جلد طے کرنا ہماری ترجیح ہے کیونکہ صوبے کو بغیر چیف ایگزیکٹو کے بغیر نہیں رکھا جا سکتا۔

چیف جسٹس نے ماضی میں 21 ویں ترمیم کے خلاف درخواستوں پر آٹھ ججوں کے فیصلے میں اپنی رائے کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے دوستوں نے بائیکاٹ کیا حالانکہ وہ جانتے ہیں میں اپنا کام عبادت کی طرح کرتا ہوں۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بائیکاٹ کرنے ولے وکلا نے گریس کا مظاہرہ کیا ہے کہ وہ عدالت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

پرویز الہی کے وکیل علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ اکیسویں ترمیم کے خلاف درخواستیں 13/4 کے تناسب سے خارج ہوئی تھیں۔

علی ظفر کے مطابق درخواستیں خارج کرنے کی وجوہات بہت سے ججز نے الگ الگ لکھی تھیں۔

ان کا کہنا تھا اُس فیصلے میں آٹھ ججز کی رائے میں موجود چیف جسٹس عمر عطا کی رضامندی شامل کی گئی تھی اور اُسی فیصلے کا گزشتہ روز حمزہ شہباز کے وکیل نے حوالہ دیا تھا۔

علی ظفر نے کہا کہ اکیسویں ترمیم کیس میں جسٹس جواد خواجہ نے آرٹیکل 63 اے کو خلاف آئین قرار دیا تھا، جسٹس جواد خواجہ کی رائے تھی کہ آرٹیکل 63 اے ارکان کو آزادی سے ووٹ دینے سے روکتا ہے، تاہم جسٹس جواد خواجہ نے فیصلے میں اپنی رائے کی وجوہات بیان نہیں کیں۔

علی ظفر کے مطابق وہ جسٹس جواد خواجہ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا، لیکن پارلیمانی پارٹی کا کردار واضح ہے جس کے فیصلے کے بعد پارٹی سربراہ کی بات آتی ہے۔

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے