پاکستان

سیلاب کے بعد نئی افتاد،سندھ میں316 افراد بیماریوں کا لقمہ بن گئے

اکتوبر 3, 2022

سیلاب کے بعد نئی افتاد،سندھ میں316 افراد بیماریوں کا لقمہ بن گئے

پاکستان میں بدترین سیلاب کے بعد اب بھی اکثر علاقوں میں پانی کھڑا ہے جس کی وجہ سے جلد اور آنکھوں کی بیماریوں سمیت ڈائیریا، ملیریا اور ڈینگی سے بڑی تعداد میں افراد متاثر ہو رہے ہیں۔

سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبہ سندھ میں کئی وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں اور محکمہ صحت کو صورت حال سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

غیرملکی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صوبہ سندھ کے کئی علاقوں میں اب بھی سینکڑوں مربع کلومیٹر علاقے پر سیلاب کا پانی کھڑا ہے اور بڑی تعداد میں متاثرین حکومتی کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں جن کو اپنے گھر چھوڑنا پڑے تھے یا پھر جن کے گھر بہہ گئے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جن علاقوں میں پانی کھڑا ہے وہاں جلد اور آںکھوں کی بیماریوں کے علاوہ اسہال، ملیریا، ٹائیفائڈ اور ڈینگی کے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

یکم جولائی کے بعد سے صوبہ سندھ میں سیلاب سے پھوٹنے والے امراض کی وجہ سے اب تک 316 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 17 ہزار دو سو 85 ملیریا کے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے عارضی بنیادوں پر ان علاقوں میں پانچ ہزار معالجین کو بھی بھرتی کیا گیا ہے جہاں وبائی امراض کی شرح زیادہ ہے۔

صوبہ سندھ کے رکن اسمبلی اور پارلیمانی ہیلتھ سیکریٹری قاسم سومرو نے روئٹرز کو بتایا کہ ’سیلاب کے بعد پھوٹنے والے امراض کی شرح بہت زیادہ ہے اور ہمارے پاس ان سے نمٹنے کے لیے وسائل کی کمی ہے۔‘
دوسری جانب اقوام متحدہ نے سیلاب کے بعد وبائی امراض کو ’دوسرا بحران‘ قرار دیتے ہوئے صوبہ سندھ کی صورت حال پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے