وزیراعظم کی منظوری کے بغیر چھ فوجی افسران کی برطرفی،حکومت کو نوٹس
سپریم کورٹ آف پاکستان نے چھ فوجی افسران کو برطرف کرنے کے خلاف درخواست سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے وفاق کو نوٹس جاری کر دیا۔
فوجی افسران کو انتظامی حکم کے تحت وزیراعظم کی منظوری کے بغیر برطرف کیا گیا جو کہ قواعد و ضوابط کے برخلاف ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ حکم سے درخواست گزار نہ صرف ملازمت و دیگر مراعات سے محروم ہو گئے بلکہ فئیر ٹرائل کا حق دیئے بغیر انہیں رسوا کیا گیا۔
مذکورہ حکم آئین کے آرٹیکل ۱۰a کی بھی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
چھ افسران کو بغیر شوز نوٹس جاری کئے اور وجہ بتائے برطرف کیا گیا۔
درخواست میں سیشن ۱۶ کو بھی چیلنج کیا گیا ہے جس پر بھی عدالت نے نوٹس جاری کر دیا۔
درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ کرنل(ر) انعام الرحیم،لئیق خان سواتی اور ایڈووکیٹ سبزواری پیش ہوئے۔
یاد رہے کہ پہلے مذکورہ افسران کی برطرفی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جہاں موقف اپنایا گیا تھا کہ افسران کو وزیراعظم کے حکم سے ہی برطرف کیا جا سکتا ہے اور وزیراعظم بھی کابینہ کی منظوری کے بعد ایسا حکم نامہ جاری کر سکتے ہیں۔اس کیس میں سرے سے وزیراعظم کی منظوری لی ہی نہیں گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو سال تک کیس زیر سماعت رہا اور عدالت نے اس بنیاد پر درخواست نمٹا دی کہ یہ کیس راولپنڈی کا ہے اور عدالت عالیہ کا دائرہ کار نہیں بنتا تاہم کیس سپریم کورٹ میں دائر کیاگیا جہاں اسے سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے وفاق کو نوٹس جاری کر دیا گیا۔
جن فوجی افسران کو برطرف کیا گیا تھا ان میں سابق میجر زر بخت خان،میجر علی حیدر،میجر مرزا عاصم بیگ،میجر محمد عدنان افضل،میجر محمد بلال جدون اور سابق میجر فضل منان شامل ہیں۔

