پی ٹی آئی لانگ مارچ کو ہر صورت اسلام آباد میں داخلے سے روکنے کا فیصلہ
Reading Time: 2 minutesوفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو دارلحکومت اسلام آباد میں کسی بھی صورت میں داخل نہ ہونے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
منگل کواسلام آباد پر پی ٹی آئی کی ممکنہ چڑھائی روکنے کے حوالے سے حکمت عملی کوحتمی شکل دینے کیلئے وزارت داخلہ میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میںپی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ اور دھرنے کو روکنے سے متعلق حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی گئی۔
وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کی ہدایت پراجلاس کی کاروائی کو ان کیمرا رکھا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سکیورٹی ایجنسیز نے وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کو پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ کے حوالے سے بریفنگ دی۔ پی ٹی آئی لانگ مارچ شرکاء کی تعداد 15سے 20 ہزار کے درمیان ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس میں مارچ کے دوران امن وامان یقینی بنانے کیلئےاسلام آباد پولیس سمیت سندھ پولیس، رینجر،اور ایف سی کی خدمات لینے جب کہ
امن وامان کیلئے اسلام آباد پولیس سمیت، سندھ پولیس، ایف سی اور رینجرز کی تیس ہزار نفری کا بندوبست کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ممکنہ لانگ مارچ کے دوران ریڈ زون میں واقع سرکاری عمارتوں اور ڈپلومیٹک انکلیو کی سکیورٹی فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی ائی ممکنہ مارچ کی صورت میں فوج، دارلحکومت اسلام آباد میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 245 کے تحت تعینات ہوگی۔لانگ مارچ کو دارلحکومت اسلام آباد میں کسی بھی صورت میں داخل نہ ہونے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو لاجسٹک اور مالی معاونت فراہم کرنے والے افراد اور تنظیموں کے خلاف ایکشن کی منظوری دی گئی ہے۔
دارلحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی صورت میں آتشیں اسلحہ ساتھ رکھنے پرمکمل پابندی لگانے،پی ٹی آئی جلوس کے ساتھ چڑھائی کرنے اور معاونت فراہم کرنے والے وفاقی ملازمین کی مکمل شناخت اور Estacodeکے تحت کاروائی کرنے کا بھی فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
لانگ مارچ کے دوران اسلام آباد کے شہریوں کی نقل وحمل کی آزادی اورہسپتالوں اور سکولوں کو فنگشل رکھنے کے حوالے سے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
اجلاس میں سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، کمانڈنٹ ایف سی صلاح الدین محسود،آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر، کمانڈر رینجرز اسلام آباد ،چیف کمشنراسلام آباد عثمان یونس، ڈی آئی جی آپریشنز سہیل ظفر چٹھہ ،ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن شریک ہوئے۔
اجلاس میں سکیورٹی ایجنسیز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔