پاکستان

زیرحراست تشدد،عمران خان کا مطالبہ صرف اپنے پارٹی رہنماؤں تک محدود کیوں؟

اکتوبر 29, 2022

زیرحراست تشدد،عمران خان کا مطالبہ صرف اپنے پارٹی رہنماؤں تک محدود کیوں؟

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے چیف جسٹس سے اعظم سواتی اور شہباز گل پر زیرحراست تشدد کے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے،جس سے یہ بحث چل نکلی ہے کہ وہ بات ٹھیک کر رہے ہیں لیکن یہ صرف ان کے پارٹی کارکنوں تک محدود کیوں ؟

لاپتہ افراد اور زیرحراست اموات جیسی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ وطن عزیز میں سالہا سال سے جاری ہے،عمران خان نے کہا کہ اگر شہباز گل کے معاملے کا نوٹس لیا جاتا تو اعظم سواتی کے ساتھ یہ ظلم نہ ہوتا،اصل حقیقت یہ ہے کہ اگر ہمارے سیاست دان سالہا سال سے جاری ظلم کے خلاف کھڑے ہوتے تو یہ ظلم آج نہ ہوتا۔

لوگوں کے خیال میں عمران خان کے طرز سیاست سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن وہ جب یہ کہتے ہیں کہ یہ ہماری جنگ نہیں تھی تو وہ عام لوگوں کے جذبات کی درست ترجمانی کرتے ہیں۔

لوگ پوچھتے ہیں کہ عمران خان جب برسراقتدار آئے تو انہوں نے زیرحراست تشدد کے واقعات کا نوٹس کیوں نہ لیا؟لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کیوں نہ کیا؟اگر وہ یہ مسئلہ حل نہیں کر سکتے تھے تو جس طرح آج وہ لگی لپٹی رکھے بغیر گفتگو کر رہے ہیں اسی انداز میں کیوں قوم کا نہ بتایا کہ مسئلے کے حل میں رکاوٹ کون ہے؟

انہوں نے ڈرون حملوں کا کیس عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا اعلان کیا تھا،انہیں اپنے دور اقتدار میں یہ وعدہ یاد دلانے کے کئے مظاہرے بھی ہوئے وہ کیوں خاموش رہے؟

عمران خان نے پاکستان میں گوانتاموبے کی طرز پر خفیہ عقوبت خانے (حراستی مراکز )بند کیوں نہ کئے؟عدالت کی جانب سے لاپتہ افراد کے حوالے سے کچھ مستحسن فیصلوں کے خلاف ان کی حکومت نے اپیل کیوں کی؟

آج بھی پاکستانی شہری اپنے لاپتہ پیاروں کی تصاویر اٹھائے ہر دروازے پر دستک دے رہے ہیں،وہ صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے پیارے زندہ ہیں یا مار دیئے گئے؟کوئی اندازہ کر سکتا ہے کہ ان ورثا کے شب و روز کس کرب میں گزر رہے ہیں؟

عمران خان نے اگر سچ بولنا ہے تو وہ پورا سچ بولیں اور سیاست سے ہٹ کر آج وہ بتائیں کہ اپنے دور حکومت میں لاپتہ افراد کا مسئلہ کیوں حل نہ کر سکے؟کیوں چند اچھے عدالتی فیصلوں کے خلاف اپیل میں گئے؟کیا صفحہ ایک ہو جائے تو سب کچھ جائز ہو جاتا ہے؟

اگر آئندہ وہ برسراقتدار آئے تو اس مسئلے کے حل کے لئے کیا کریں گے جو اپنے پہلے دور اقتدار میں کرنے سے گریزاں رہے؟

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے