وفاقی تعلیمی اداروں میں طلبا سے ٹرانسپورٹ چارجز لینے کا فیصلہ،والدین پریشان
وفاقی دارالحکومت کے تعلیمی اداروں میں طلبا کے لئے ٹرانسپورٹ کی مد میں چارجز لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،جس سے والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
والدین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس فیصلے کو واپس لیا جائے یا معقول چارجز مقرر کئے جائیں،بار بار اندھا دھند مہنگائی سے پہلے ہی اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا مشکل ہو رہا ہے۔
کالج مینجمنٹ کمیٹی کی جانب سے ایک سرکلر جاری کیا گیا ہے جس میں وفاقی نظامت تعلیمات کے ایک مراسلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یکم نومبر سے ماہانہ ٹرانسپورٹ چارجز وصول کئے جائیں گے۔
جاری کردہ سرکلر میں والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر وہ ٹرانسپورٹ کی سہولت کے خواہشمند ہیں تو بس فنڈ کے لئے چالان کالج ہذا کے کیشئر سے حاصل کریں اور جتنا جلدی ہو سکے بینک میں جمع کرائیں۔
بعض اطلاعات کے مطابق کچھ تعلیمی اداروں نے ماہانہ 1500 اور کچھ سے ماہانہ 2500 روپے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ پہلے کوئی چارجز نہیں تھے،مہنگائی کے اس دور مزید بوجھ ڈالنا مناسب نہیں ہے لہذا اس فیصلے کو فوری واپس لیا جائے۔ بعض والدین کے دو دو تین تین بچے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں وہ فی بچہ اتنی رقم کی ادائیگی سے قاصر ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے کو واپس لیا جائے یا اس مقرر کردہ رقم میں کمی کی جائے۔

