پاکستان

طلبا کے ٹرانسپورٹ چارجز میں اضافہ بھی آئی ایم ایف کی شرط ہے؟

نومبر 1, 2022

طلبا کے ٹرانسپورٹ چارجز میں اضافہ بھی آئی ایم ایف کی شرط ہے؟

وفاقی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبا و طالبات کے ٹرانسپورٹ چارجز میں ناقابل برداشت اضافے سے والدین بلبلا اٹھے۔ حکومت سے فوری طور پر منصفانہ فارمولا وضع کرنے مطالبہ کر دیا۔

اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبا کے والدین کا کہنا ہے کہ پہلے چار ہزار روپے سالانہ ٹرانسپورٹ کی مد میں وصول کئے جاتے تھے لیکن اب یکدم ۱۵۰۰ سے ۲۵۰۰ تک فی بچہ ماہانہ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کالج مینجمنٹ کمیٹی کی جانب سے ایک سرکلر جاری کیا گیا ہے جس میں وفاقی نظامت تعلیمات کے ایک مراسلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یکم نومبر سے نئے چارجز لئے جائیں گے۔

سرکلر میں طلبا کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر وہ ٹرانسپورٹ کی سہولت کے خواہش مند ہیں تو بس فنڈ کے لئے چالان کالج سے حاصل کریں اور جتنا جلدی ہو سکے بینک میں جمع کرائیں۔

والدین کا کہنا تھا کہ بعض کے دو اور بعض کے تین بچے زیرتعلیم ہیں وہ فی بچہ اتنی رقم دینے سے قاصر ہیں اور یہ فیصلہ طلبا کو ٹرانسپورٹ کی سہولت سے محروم کرنے کی کوشش ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف کی مرضی کے بغیر سانس بھی نہیں لے سکتے تو کیا طلبا کو ٹرانسپورٹ کی سہولت سے محروم کرنا آئی ایم ایف کی شرط ہے؟سابقہ دور میں بھی یہی ہوتا رہا کہ کوئی ایسا راستہ نہیں چھوڑا گیا جہاں سے عوام کا خون نہ نچوڑا گیا ہو اور موجودہ دور میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بار بار اندھا دھند مہنگائی سے پہلے ہی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور بجٹ درہم برہم ہو چکا ہے،مہنگائی کے طوفان میں ٹرانسپورٹ چارجز کی مد میں یکدم اتنا اضافہ والدین کو مزید پریشان کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے حکومت اور وزارت تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ پرانے چارجز بحال کئے جائیں اور اگر اضافہ ناگزیر ہے تو کوئی منصفانہ فارمولا وضع کیا جائے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے