سب بری ہو گئے،کون ذمہ دار ہے؟عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ جب تک معاشرے میں انصاف نہیں ہوتا وہاں خوشحالی نہیں آتی۔ طاقت ور اور کمزور کے لئے ایک قانون ہو یہ انصاف ہے۔
بدھ کو لانگ مارچ کے چھٹے روز خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اپنے سیاسی حریفوں کی جانب تنقید کی توپوں کا رخ کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کو سولہ ارب کی کرپشن کے مقدمے میں سزا ہونے والی تھی،چار گواہ موجود تھے،لیکن اسے بچایا گیا۔ گواہ ہارٹ اٹیک سے مرے لیکن کوئی تحقیقات نہیں ہوئیں۔
عمران خان نے کہا کہ زرداری بھی مقدمات بھی ختم کئے جا رہے ہیں۔ساڑھے تین سالہ اپنے دور اقتدار میں کوشش تھی کہ چوروں کو سزا ہو لیکن خفیہ ہاتھ تھا،کبھی بینچ ٹوٹ جاتے،نیب میرے ہاتھ میں نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ زرداری سب سے بڑی بیماری کے کیس ختم ہوئے،مریم،شہباز اور حمزہ بھی بری ہوئے۔سب بری ہو گئے کون ذمہ دار ہے؟
عمران خان نے کہا کہ کل کہتے تھے یہ چور ہیں پھر انہیں این آر او دے دیا اور پاک صاف ہو گئے،کس نے ان چوروں کو اوپر بٹھا دیا؟

