پاکستان

ایف ڈی ای کا بس فیس نوٹیفیکیشن قابل مذمت:ایپکا فیڈرل

نومبر 2, 2022

ایف ڈی ای کا بس فیس نوٹیفیکیشن قابل مذمت:ایپکا فیڈرل

فیڈرل ایپکا نےفیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (ایف ڈی ای) کے بس فیس نوٹیفکیشن کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملازمین کی بچوں کا استحصال نہیں ہونے دیں گے،سرکاری سکولوں میں زیرتعلیم طلبا و طالبات سے بس فیس وصولی کے فیصلے کے خلاف اگر عدالت بھی جانا پڑا تو جائیں گے۔

بدھ کو فیڈرل اپیکا کی کیبنٹ کا ہنگامی اجلاس زیر صدارت چہرمین، صدر فیڈرل اپیکا منعقد ہوا اجلاس میں چہرمین سید گلفراز حسین شاہ ،سنیئر وائس چہرمین محمد شہزاد کورائی،وائس چیئرمین چوہدری اشفاق،صدر طارق محمود سیالوی، نائب صدر چوہدری شفقت، جنرل سیکرٹری سید یاور عباس، سنئیر جوائنٹ سیکرٹری محمد حفیظ ہاشمی ،PLB ضلع اسلام آباد کے صدر راجہ اشتیاق احمد، پمز نان گزیٹڈ ایسوسی ایشن کے صدر ملک طاہر محمود صاحب سمیت پوری ایسوسی ایشن، PWD یونین کے صدر سید زیشان شاہ نے شرکت کی۔

مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں ٹرانسپورٹ کے نام پر فیسوں میں غیر معمولی اضافے کی ہم مذمت کرتے ھیں۔

غریبوں کے بچے اگر فیس دےسکتے ھوتے تو وہ پرائیویٹ اداروں میں کیوں نہ جاکر پڑھتے۔ ان اداروں میں زیادہ تر تعداد ملازم پیشہ پردیسی لوگوں کی ھے، اس طرح ملازمین کا معاشی قتل بند کیاجائے۔غریب کے بچوں سے پڑھائی کا حق چھیننے والوں کو ہم بھرپور جواب دیں گے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ انشااللہ آل پاکستان کلیریکل ایسوسی ایشن وفاق کی جانب سے اس حوالے سے لائحہ عمل اور رد عمل جلد سامنے لایاجائیگا۔

اس سے پہلے بحال شدہ ملازمین کے خلاف بھی غیرانسانی کاروائیاں کی گئی، جسکو بعد از پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی نے نوٹس لےکر ٹیک اپ کیا۔
بار بار اس طرح کے واقعات کا سامنے آنا انتظامیہ کی ناکامی اور بدنیتی کا منہ بولتا ثبوت ھے۔

اس کرپشن کو انشااللہ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی لےجائیں گے۔ اس طرح کے آرڈرز آئین پاکستان 1973کی کھلم کھلا خلاف ورزی ھے۔ مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت دینا سرکار کے فرائض اور زمہ داریوں میں شامل ھے۔

تعلیمی اداروں کو کمرشل ٹرانسپورٹر بنانے سے بچایا جائیگا۔ مفت تعلیم کا مطلب ھے بچوں سے تعلیمی ادارے کسی بھی مد میں ایک روپیہ بھی طلب نہیں کریں گے۔ مفت کا مطلب ھے مفت۔ آپ کسی بھی طالب علم سے چندا یا زکوۂ تک بھی نہیں لےسکتے۔

لہذا انتظامیہ کی جانب سے ریاست کے اندر ریاست بنانے کے اس تصور کو ختم کرنا ھوگا۔اگر اس حوالے سے عدالت بھی جانا پڑا تو جائیں گے لیکن ملازمین کے بچوں کا استحصال ہونے نہیں دیں گے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے