پاکستان

عمران خان کی جان کو خطرہ،بے مقصد اجتماع ملتوی کریں:وزیرِداخلہ

نومبر 25, 2022

عمران خان کی جان کو خطرہ،بے مقصد اجتماع ملتوی کریں:وزیرِداخلہ

وفاقی وزیرِداخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ایجنسیوں کی رپورٹ ہے کہ عمران خان کی جان جو خطرہ ہے،کوئی دہشت گرد تنظیم یا گروہ فائدہ اٹھا سکتا ہے،عمران خان کل کا اجتماع ملتوی کر دیں۔

جمعے کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا اب بھی عمران خان کو مشورہ ہے کہ وہ کل کا اجتماع ملتوی کر دیں، تمام ایجنسیوں نے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے اور حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ کوئی دہشت گرد تنظیم یا گروہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے پہلے سے احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے،انتظامیہ سے کہا ہے کہ سیکیورٹی اقدامات کئے جائیں،سٹیج کو بلٹ پروف رکھا جائے،سٹیج پر انٹری محدود رکھی جائے اور ان لوگوں پر بھی نظر رکھی جائے۔

وزیرِداخلہ نے کہا کہ تمام ادارے اپنی آئینی حدود کے مطابق قومی خدمت کا فریضہ سر انجام دیں،پاک فوج نے اپنی آئینی حدود میں رہنے کا عزم کیا جس کا سب نے خیرمقدم کیا لیکن ایک سیاسی رہنما نے اسے چیلنج کیا اور وہ طعنہ زنی سے گالم گلوچ اور پھر بلیک میلنگ کی حد تک پہنچے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی سال فوج کے سربراہ کی تعیناتی ہونی تھی اسے تماشا بنانے کے لئے لانگ مارچ جا ڈھونگ رچایا گیا لیکن بہترین ملکی مفاد میں فوج کے سربراہ کی تقرری کا عمل آئینی طریقے سے مکمل ہوا اور خدا کا شکر ہے کہ اس عمل کو سبوتاژ کرنے کے بہانے ناکام ہوئے،جنرل عاصم آرمی چیف اور شمشاد ساحر مرزا جوائنٹ چیف آف سٹاف مقرر ہوئے،دونوں کو مبارکباد دیتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ملک و قوم کے بہترین مفاد میں فیصلے کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اب چاہئے تو یہ تھا کہ عمران خان اجتماع ملتوی کر دیتے لیکن وہ بضد ہیں،میرا اب بھی مشورہ ہے کہ بے مقصد اجتماع کو ملتوی کر دیں،وہ یہ نہ کریں تو بہتر ہے انہیں شرمندگی ہو گی۔ رانا

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ جھوٹی آزادی کے نام پر حلف لئے گئے،یہ آذادی مارچ نہیں فتنہ فساد مارچ ہے،یہ پاکستانی معیشت کو تباہ کرنے کا مارچ ہے،لوگ جسے چاہیں ووٹ دیں لیکن فتنے فساد کا حصہ نہ بنیں،یہ عمل ملکی مفاد کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو پنڈی سے الیکشن کی تاریخ نہیں ملی گی،
اسٹبلشمنٹ آپ کو الیکشن کی تاریخ نہیں دے سکتی،یہ بات پرانی ہو گئی ہے،اسٹبلشمنٹ بطور ادارہ اس فیصلے پر کھڑی ہے کہ وہ اپنی آئینی حدود میں رہے گی،خان صاحب آپ سیاست دان بنیں،آپ برسراقتدار رہے،اس اسمبلی کا حصہ رہے،پارلیمانی نظام میں حزب اختلاف اور اقتدار گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں،آپ نے حزب اقتدار کو جیلوں میں ڈالا اور حکومت پوری نہیں کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ خان صاحب مولانا فضل الرحمن سے ملیں،اختر مینگل سے ملیں،آپ نواز شریف اور میاں شہباز شریف سے ملیں،اگر ملاقات میں دقّت ہو تو میں مدد جو تیار ہوں،آپ الیکشن کی تاریخ چاہتے ہیں تو سیاست دانوں سے ڈائیلاگ کریں۔ آپ پارلیمنٹ میں آئیں تاکہ ملک ترقی کرے اور عام آدمی کی زندگی میں آسانی آئے اگر آپ یہُنہیں کرتے تو سیاسی عدم استحکام،مہنگائی اور عام آدمی کے نقصان کے آپ ذمہ دار ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے