پاکستان

اعتماد اور عدم اعتماد کی ووٹنگ، پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کی جیت کیسے؟

دسمبر 21, 2022

اعتماد اور عدم اعتماد کی ووٹنگ، پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کی جیت کیسے؟

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ایک بار پھر سیاسی بحران کے طوفان نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف اور ن لیگ کے ارکان کی تعداد میں نہایت کم فرق کے باعث سابق وزیراعلیٰ عثمان بُزدار کو ہٹائے جانے کے بعد تاحال صوبے میں سیاسی استحکام نہیں آ سکا۔

رواں ہفتے وزیراعلٰی پرویز الہی کو بیک وقت دو محاذوں پر اپنی برتری ثابت کرنے کا چیلنج درپیش ہے جس کے بعد ہی وہ تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی کے مطابق اسمبلی تحلیل کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

ایک طرف صوبے کے گورنر بلیغ الرحمان نے پرویز الہیٰ کو اسمبلی سے بدھ کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کر رکھی ہے تو دوسری جانب اپوزیشن نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی جمع کروا رکھی ہے۔

پرویز الٰہی کو کم از کم 186 اراکین اسمبلی اپنی حمایت میں پیش کرنا ہوں گے جبکہ عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے والی اپوزیشن کو بھی گنتی کے وقت اپنے حق میں یہی تعداد پیش کرنا ہوگی۔

دونوں آئینی و قانونی ضابطے پورے کرنے کے لیے الگ الگ دن اور وقت مقرر کیا گیا ہے۔

اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے پنجاب اسمبلی کے سپیکر سبطین خان نے ایک رولنگ کے ذریعے گورنر کی طرف سے بلائے گئے خصوصی اجلاس کو غیرآئینی قرار دے کر گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

دوسری طرف جمعے کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

پنجاب اسمبلی اور حکومت کے معاملات ایک بار پھر عدالتوں میں جاتے دکھائی دیتے ہیں جہاں چند ماہ قبل سپریم کورٹ نے پرویز الہی کو فاتح قرار دیا تھا۔

تاہم اگر سپیکر کا فیصلہ ہی حتمی ہوتا ہے اور عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ ہوتی ہے تو پھر اسمبلی میں پارٹی پوزیشن دلچسپ ہے۔

تحریک انصاف کے پاس 180 اراکین ہیں جبکہ ان کی حمایت ق لیگ کر رہی ہے جن کے اراکین کی تعداد 10 ہے یوں حکومت کو 190 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔

دوسری طرح پوری اپوزیشن کے اراکین کی تعداد 180 ہے۔ جن میں 167 مسلم لیگ ن، سات پیپلزپارٹی، ایک راہ حق پارٹی اور پانچ آزاد اراکین ہیں۔

آئینی ماہرین کے مطابق اعتماد کے ووٹ کی صورت میں پرویز الٰہی کے لیے مشکل ہو سکتی ہے تاہم عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ میں وزیراعلی اور تحریک انصاف کو فرق نہیں پڑے گا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے