کالم

روایات شکن شادیوں سے کچھ تبدیل ہوگا؟

دسمبر 24, 2022 3 min

روایات شکن شادیوں سے کچھ تبدیل ہوگا؟

Reading Time: 3 minutes

حال میں ایسی کئی شادیاں ہوئی ہیں جن میں خاتون کی عمر زیادہ اور مرد کی عمر کم تھی۔ لبرل دوستوں نے ان کا خیرمقدم کیا جبکہ قدامت پرستوں نے مضحکہ اڑایا۔

ایسی شادیاں بالائی طبقے سے تعلق رکھنے والوں یا مشہور افراد نے کیں اس لیے کسی حد تک انھیں قبولیت ملی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ مڈل کلاس میں ایسی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

بشریٰ انصاری، عارفہ صدیقی، ریحام خان، یہ سب عام خواتین نہیں۔ یہ ان کی پہلی شادیاں بھی نہیں تھیں۔ ہمارے سماج میں ایک عام خاتون کا اپنی مرضی سے دوسری شادی کرنا ہی آسان نہیں۔

کیا سیلی بریٹیز کی بظاہر روایات شکن شادیوں سے کچھ تبدیل ہوگا؟ مجھے اس کا یقین نہیں۔

یہاں امریکا میں بریڈ پٹ اور لیونارڈو ڈی کیپریو نے کم عمر خواتین سے ڈیٹنگ شروع کی تو ان کا خوب مذاق اڑایا گیا۔ یہ کسی سماج کی روایات کا معاملہ نہیں۔ پارٹنرز میں عمر کا زیادہ فرق کہیں بھی مناسب نہیں سمجھا جاتا۔

مغربی معاشرے میں ایک قاعدہ بیان کیا جاتا ہے کہ مرد کو ایسی خاتون سے شادی نہیں کرنی چاہیے جو اس سے عمر میں نصف جمع سات سال سے چھوٹی ہو۔

مرد تیس سال کا ہو تو اس کی عمر کا نصف جمع سات ہوئے بائیس سال۔ مرد کو بائیس سال یا زیادہ کی لڑکی ڈھونڈنی چاہیے۔ پچاس سال والے کو بتیس سال سے کم عمر کی خواتین میں دلچسپی لینے سے گریز کرنا چاہیے۔ بریڈ پٹ اور ڈی کیپریو اسی لیے تنقید کا نشانہ بنے۔

مرد سے زیادہ عمر کی خاتون سے شادی کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ کیونکہ عورت کا جسم ڈھل جاتا ہے تو مرد کی دلچسپی کم ہوجاتی ہے۔ ایسا ہمیشہ نہ سہی لیکن اکثر ہوتا ہے۔

میری سعودی عرب میں ایک صاحب سے دوستی ہوئی جن کی ایک بیگم پاکستان میں تھیں اور دوسری جدہ میں۔ بے تکلفی ہوئی تو میں نے پوچھا، دوسری شادی عربوں سے متاثر ہوکر کی؟ انھوں نے بتایا کہ ان کے بڑے بھائی کا جوانی میں انتقال ہوگیا تھا۔ خاندان والوں نے بھابھی سے شادی کروادی۔ عمر میں دس سال کا فرق تھا۔ بچے بھی ہوگئے۔ کچھ عرصے بعد انھیں سعودی عرب میں ملازمت مل گئی۔ کہنے لگے، ساتھ رہتے ہوئے احساس نہیں تھا۔ دو ڈھائی سال بعد واپس گیا تو میں جوان تھا اور بیوی بوڑھی لگ رہی تھی۔ تب پہلی بار وہ رشتہ بے جوڑ لگا۔

ایک اور بات شرمیلے سماج کے لوگ نہیں کرتے۔ مرد اور عورت کی جنسی خواہش میں عمر کے ساتھ فرق آتا ہے۔ مرد کو صنف قوی اور عورت کو صنف نازک کہا جاتا ہے لیکن درحقیقت عورت اس معاملے میں قوی ہوتی ہے۔ بیشتر مردوں کی عزت اسی میں برقرار رہتی ہے کہ وہ کئی سال کم عمر خاتون سے شادی کریں۔ بہت سی طلاقوں کے بہانے کچھ اور بیان کیے جاتے ہیں لیکن اصل وجہ جنسی ناآسودگی ہوتی ہے۔

ناآسودگی کے باوجود کون سے رشتے برقرار رہتے ہیں؟ جہاں محبت ہوتی ہے۔ میں جب کوئی بظاہر بے جوڑ شادی دیکھتا ہوں تو یہی سمجھتا ہوں اور خواہش بھی رکھتا ہوں کہ ان میں حقیقی محبت ہو۔ محبت کے لیے سب کچھ فراموش کیا جاسکتا ہے۔

اوپر عارفہ صدیقی کا ذکر کیا۔ وہ 26 سال کی تھیں تو 56 سال کے موسیقار نذر حسین سے شادی کی اور 51 سال کی ہوئیں تو 28 سال کے گلوکار تعبیر علی سے۔ ایسا محبت ہی میں کیا جاسکتا ہے۔

ریحام خان کی شادی پر حسب معمول روشن خیال دوستوں نے خوشی کا اظہار کیا اور چند مذہبی افراد نے الٹے سیدھے جملے کسے۔ خود کو مسلمان کہنے والے ایسا کیسے کرسکتے ہیں۔

رسول پاک نے پہلی شادی پندرہ سال بڑی خاتون سے کی تھی اور تیسری شادی 35 (یا 42) برس چھوٹی لڑکی سے۔ سنت کی پیروی پر سب کو مبارکباد دینی چاہیے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے