اہم خبریں متفرق خبریں

پنجاب میں الیکشن، سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت مکمل

مئی 5, 2023

پنجاب میں الیکشن، سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت مکمل

پاکستان میں ایک ہی روز انتخابات کرانے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت مکمل ہو گئی ہے جس کے اختتام پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ موزوں حکم جاری کیا جائے گا۔

وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ معاملہ اس پر نمٹا دیا جائے کہ دونوں فریق ایک تاریخ پر الیکشن کرانے پر متفق ہیں۔

چیف جسٹس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ صرف وعدے کرتے ہیں۔

قبل ازیں دوران سماعت سُپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وہ اور اُن کے ساتھی ججز قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے یہ ریمارکس جمعے کو اپنے دو ساتھی ججز جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کے ہمراہ پنجاب میں الیکشن کرانے کے مقدمے کی سماعت کے دوران دیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آئینی کارروائی کو حکومت نے سنجیدہ نہیں لیا۔

وکیل فاروق نائیک نے کہا کہ اُن کو تو عدالت نے سنا ہی نہیں تھا۔

چیف جسٹس نے جواب دیا کہ دوسرے راؤنڈ میں آپ نے بائیکاٹ کیا تھا، کبھی فیصلہ حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔

چیف جسٹس نے حکومتی وکیل سے کہا کہ آپ چار تین کی بحث میں لگے رہے، جسٹس اطہر من اللہ نے اسمبلیاں بحال کرنے کا نقطہ اٹھایا تھا، حکومت کی دلچسپی ہی نہیں تھی، آج کی گفتگو ہی دیکھ لیں، کوئی فیصلے یا قانون کی بات ہی نہیں کر رہا۔

چیف جسٹس کے مطابق الیکشن کمیشن نے فنڈز اور سیکیورٹی نہ ملنے کا کہا تھا۔

وکیل فاروق نائیک نے کہا کہ آئینی نکات پر دلائل نہیں ہو سکے تھے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ نظرثانی اپیل تک حکومت نے دائر نہیں کی، حکومت قانون کی بات نہیں سیاست کرنا چاہتی۔

چیف جسٹس کے مطابق انہوں نے پہلے بھی کہا تھا سیاست عدالتی کارروائی میں گھس چکی ہے، وہ سیاست کا جواب نہیں دیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے اللہ کے سامنے آئین کے دفاع کا حلف لیا ہے۔ معاشی، سیاسی، معاشرتی، سیکیورٹی بحرانوں کے ساتھ ساتھ آئینی بحران بھی ہے۔

چیف جسٹس کے مطابق گزشتہ روز بھی اٹھ لوگ شہید ہوئے، حکومت اور اپوزیشن کو سنجیدہ ہونا ہوگا۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ معاملہ سیاسی جماعتوں پر چھوڑ دیں تو کیا قانون پر عملدرآمد نہ کرائیں، کیا عدالت عوامی مفاد سے آنکھیں چرا لے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم صرف اللہ کی ذات ہے، حکومت عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرنے کی پابند ہے۔

چیف جسٹس کے مطابق عدالت تحمل مظاہرہ کر رہی ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، قانون پر عملدرآمد کے لیے قربانیوں سے دریغ نہیں کریں گے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ قوم کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں تو ہم بھی قربانیاں کے لیے تیار ہیں۔

چیف جسٹس نے گلہ کیا کہ ان کی اور اسمبلی میں ہونے والی گفتگو جائزہ لیں، جو بات یہاں ہورہی ہے اس کا لیول دیکھیں.

وکیل نے کہا کہ عدالت کو 90 روز میں انتخابات والے معاملے کا جائزہ لینا ہوگا،انتخابات کے لیے نگران حکومتوں کا ہونا ضروری ہے، منتخب حکومتوں کے ہوتے ہوئے الیکشن کوئی قبول نہیں کرے گا، یہ نظریہ ضرورت نہیں ہے.

چیف جسٹس نے کہا کہ 23 فروری کا معاملہ شروع ہوا تو آپ نے انگلیاں اٹھائیں، یہ سارے نکات اس وقت نہیں اٹھائے گئے.
پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ تحریک انصاف نے ایک دن الیکشن کرانے پر اتفاق کیا ہے، شرط رکھی کہ اسمبلیاں 14 مئی تک تحلیل کی جائیں۔

بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ دوسرے شرط تھی کہ جولائی کے دوسرے ہفتے میں الیکشن کرائے جائیں، تیسری شرط تھی کہ انتخابات میں تاخیر کو آئینی ترمیم کے ذریعے قانونی شکل دی جائے۔

خواجہ سعد رفیق نے چیف جسٹس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سوموٹو کے نتیجے میں پنجاب میں الیکشن کی تاریخ آئی۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا ’ہم نے سوموٹو لینا چھوڑ دیے ہیں۔‘


ان کا کہنا تھا کہ آپ چاہتے ہیں کہ عدالت سوموٹو نکات اٹھائے۔
 

چیف جسٹس نے سعد رفیق سے کہا کہ ’آپ کی باتوں میں وزن لگ رہا ہے۔ آپ کے علاوہ کوئی سنجیدہ نکتہ نہیں اٹھانا چاہتا۔‘


چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ابھی تک چار تین کی بات ہی چل رہی ہے۔ فریقین کو لچک دکھانی چاہیے۔
’اگر آپ کو اتفاق ہو جائے تو امتحان سے نکل سکتے ہیں۔‘

’ہدایات دیں گے نہ ہی مذاکرات میں مداخلت کریں گے‘


خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ عدالت ہدایت نہ دے ہم خود مل بیٹھیں گے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کوئی ہدایت دیں نہ ہی مذاکرات میں مداخلت کریں گے۔


خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مذاکرات جاری رہیں تو اتفاق رائے ہو سکتا ہے۔

اس موقع پر وکیل شاہ خاور نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نظرثانی کی اپیل دائر کر رکھی ہے۔


چیف جسٹس کا کہنا تھا الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ صرف فنڈز اور سکیورٹی چاہیے۔
’ضروری تو نہیں کہ بجٹ جون میں ہی پیش کیا جائے، وہ تو مئی میں بھی پیش ہوتے رہے ہیں۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے