سنگاپور میں 30 گرام منشیات سمگل کرنے کا جُرم، خاتون کو پھانسی
سنگاپور میں حکام نے ایک 45 سالہ انڈین خاتون کو سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کیا ہے جن پر ملک میں 30 گرام ہیروئن لانے کا جُرم ثابت ہوا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ یہ 20 سالوں میں پہلی مرتبہ ہے کہ سنگاپور میں کسی خاتون کو پھانسی کی سزا دی گئی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اپیلوں کے باوجود موت کی سزا پر عمدرآمد کیا گیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سزائے موت سے اس جُرم میں کوئی کمی نہیں آئی۔
سینٹرل نارکوٹکس بیورو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’سری دیوی بنت جامنی کی سزائے موت پر 28 جولائی 2023 کو عملدرآمد کیا گیا۔‘
ان کو تقریباً 30 گرام ہیروئن کی سمگلنگ کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ یہ سنگاپور میں اُس مقدار سے دوگنا تھا جس پر سزائے موت سنائی جاتی ہے۔
سینٹرل نارکوٹکس بیورو کے مطابق جامنی کو 2018 میں سزائے موت سنائی گئی۔ ان کو عدالت میں دفاع کا حق دیا گیا اور قانونی تقاضے پورے کیے گئے اور اس پورے عمل میں قانونی مشیر بھی موجود تھا۔
بیورو کا مزید کہنا تھا کہ جامنی نے سزائے موت کے فیصلے خلاف اپیل کی تھی اور عدالت نے ان کی اپیل چھ اکتوبر 2022 میں مسترد کر دی تھی۔

