اہم خبریں متفرق خبریں

عمران خان کا بھانجا حسان نیازی فوج کے حوالے، عدالت میں کیا ہوا؟

اگست 18, 2023

عمران خان کا بھانجا حسان نیازی فوج کے حوالے، عدالت میں کیا ہوا؟

لاہور ہائیکورٹ میں کور کمانڈر ہاؤس پر حملے میں ملوث عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی گئی۔

جمعے کو پنجاب حکومت کے وکیل نے حسان نیازی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کر کے بتایا کہ ملزم کو ملٹری کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت کی رپورٹ کے مطابق حسان نیازی جناح ہاؤس حملہ کیس میں نامزد اور مرکزی ملزم ہیں۔

عدالت نے حسان نیازی کے والد کو بیٹے سے ملاقات کرانے کے لیے سرکاری وکیل کو قانون اور قاعدے کی شقیں پڑھنے کی مہلت دے دی۔

جسٹس تنویر سلطان نے حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی کی درخواست پر سماعت کی۔

عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کی استدعا پر سماعت دو بجے تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ اتھارٹی سے پوچھ کر بتائیں دونوں باپ بیٹے کی ملاقات ہوسکتی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ حسان نیازی کو عدالت کے ذریعے ملٹری کے حوالے کرنا تھا مگر ایس ایچ او نے ایسا نہیں کیا اور قانون کے برعکس کام کیا۔

وکیل کے مطابق حسان نیازی کو 13 اگست کو گرفتار کیا گیا اور 17 اگست کو پولیس کی حراست میں لائے گئے۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق حسان نیازی کا راہدری ریمانڈ کسی عدالت سے نہیں لیا گیا۔ عدالت ایس ایچ او کو بلا کر پوچھے کہ اس نے ایسا غیرقانونی اقدام کیوں کیا؟

عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے سوال کیا کہ اب آپ عدالت سے کیا استدعا کرنا چاہتے ہیں؟

وکیل نے کہا کہ پولیس نے کل کی سماعت کے فوری بعد غیر قانونی طور پر حسان نیازی کو ملٹری کے حوالے کیا۔ عدالت اس اقدام کو غیر قانونی قرار دے۔

وکیل نے استدعا کی کہ والد اور بیٹے کی ملاقات کروائی جائے۔

عدالت نے پوچھا کہ کیا اب باپ بیٹے کی ملاقات پر سرکاری وکیل اعتراض کو تو نہیں؟

سرکاری وکیل نے بتایا کہ اب رولز اینڈ ریگولیشن دیکھنا پڑیں گے۔ تاہم حسان نیازی کی حراست قانونی ہے درخواست گزار کے وکیل کے الزامات کو مسترد کرتا ہوں۔

پنجاب حکومت کی وکیل نے حسان نیازی کی حوالگی کے لیے فوجی حکام کے لاہور پولیس کو لکھے خط کو بھی عدالت میں جمع کرایا۔

حسان نیازی کی ملٹری کسٹڈی کے لیے کمانڈنگ آفیسر نے انچارج انویسٹی گیشن تھانہ سرور روڈ کو لکھا جس کے مطابق حسان نیازی 9 مئی کو جناح ہاؤس حملہ کیس میں ملوث ہے اور پولیس کی حراست میں ہے۔

کمانڈنگ آفیسر عرفان اطہر کے لکھے خط کے مطابق حسان نیازی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں اور آرمی ایکٹ کے تحت ملٹری اتھارٹی کا استحقاق ہے کہ کورٹ مارشل میں ان کا ٹرائل کیا جائے۔

کمانڈنگ افسر نے لکھا کہ حسان خان نیازی کو آرمی کے حوالے کیا جائے تاکہ مزید تفتیش اور ٹرائل کیا جا سکے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے