دھمکیوں کے بعد سکیورٹی خدشات، جج ہمایوں دلاور کا تبادلہ
توشہ خانہ کیس میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سزا سنانے والی اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور کو آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) بنا دیا گیا ہے۔
جج ہمایوں دلاور نے دھمکیوں کے بعد سکیورٹی خدشات کے باعث تبادلے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا۔
جمعے کی شام اسلام آباد ہائیکورٹ سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق چیف جسٹس عامر فاروق نے جج ہمایوں دلاور کی ٹرانسفر و پوسٹنگ کا حکم جاری کیا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ماتحت عدلیہ کے انتظامی سربراہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہوتے ہیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 20 ویں گریڈ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں بنائی گئی نئی اسامی پر او ایس ڈی لگا دیا گیا ہے۔
ہائیکورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار احمد اعجاز کے دستخط سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق چیف جسٹس عامر فاروق نے جج ہمایوں دلاور کو فوری طور پر اپنی نئی اسائنمنٹ کا چارج سنبھالنے کے لیے کہا گیا ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور نے ایک خط کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے سکیورٹی خدشات کے باعث تبادلے کی درخواست کی تھی۔
انہوں نے خط میں کہا تھا کہ عمران خان کے مقدمے کا فیصلہ سنانے کے بعد اُن کو اور اُن کے اہلخانہ کو دھمکیوں کا سامنا ہے۔ جج ہمایوں دلاور نے خط میں کہا تھا کہ ان کے خلاف فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر مہم شروع کی گئی۔
انہوں نے اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں واقع خصوصی عدالت یا اسلام آباد ہائیکورٹ میں تبادلے کے لیے درخواست کی تھی۔
خیال رہے کہ جج ہمایوں دلاور پر عمران خان اور ان کے وکلا نے اعتراض کیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کر کے استدعا کی تھی کہ توشہ خانہ کیس اُن کی عدالت سے دوسرے جج کو منتقل کیا جائے۔

