پاکستان

بجلی کے بلوں پر احتجاج کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے: نگراں کاکڑ

اگست 31, 2023

بجلی کے بلوں پر احتجاج کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے: نگراں کاکڑ

پاکستان کے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ’بجلی کے بلوں کا معاملہ آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر دیکھ رہے ہیں، آئندہ 48 گھنٹوں میں بجلی کے بلوں کے حوالے سے حکمت عملی اعلان کریں گے۔‘

جمعرات کو اسلام آباد میں سینیئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’بجلی کے بلوں کے حوالے سے ہم نے عوام کا احتجاج دیکھا ہے، اس مسئلے پر احتجاج کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔‘

نگراں وزیراعظم کے مطابق انہوں نے فوج سے سرکاری طور پر پوچھا کہ افسران کو کتنے یونٹ مفت ملتے ہیں انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں ایک یونٹ بھی مفت نہیں ملتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’صرف واپڈا کے ملازمین کو ریلیف ملتا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کو کم ریلیف ملتا ہے تاہم 17 سے 22 تک کے ملازمین کو بے شمار مفت یونٹس کی سہولت حاصل ہے بعض کو بالکل مفت ملتی ہے۔‘

نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ بجلی کے بلوں کے معاملے پر عوام کے لیے ریلیف اقدامات کا جلد اعلان کریں گے۔

بجلی بحران کی بڑی وجہ مہنگے داموں بجلی کی خریداری، پیداوار، ترسیل اور بلوں کی وصولی میں نقائص ہیں۔

کوئی غلط فہمی میں نہ رہے وطن عزیز کے ہر انچ کا دفاع کریں گے۔

قانون کے مطابق انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے ذریعے پرامن انتقال اقتدار کے لیے پرعزم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نگراں حکومت آئین کی ضرورت کے مطابق قائم کی گئی ہے، مختلف شعبوں میں قابل افراد کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے، ملک کو معاشی اور سکیورٹی کے بڑے چیلنجز درپیش ہیں، مرض کی درست تشخیص کرکے اس کا علاج کیا جاتا ہے، بجلی کے بلوں کے حوالے سے احتجاج کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ ظالم حکمران آ گئے ہیں اور غریب عوام کا خون چوسیں گے، کسی کو یہ غلط فہمی ہے تو وہ دور کرے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سمگلنگ، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ جیسے مسائل سمیت مختلف پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے، غیرپیداواری شعبوں میں منافع پر انحصار کیا جا رہا ہے، ہم بھی ان مسائل کو ٹال سکتے ہیں لیکن یہ معاملہ پھر سامنے آئے گا، ہمیں اس سوال کا جواب ڈھونڈنا پڑے گا، اس کی وجہ سے سماجی و معاشی مسائل پیدا ہو رہے ہیں، سوشل میڈیا پر ایسے تبصرے کئے جاتے ہیں جو ملک کیلئے نقصان دہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں، افغانستان سے ذمہ دارانہ انخلاء نہیں ہوا بلکہ تیزی سے انخلاء کیا گیا جس کے پاکستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک پر اثرات پڑے ہیں، افغانستان کی صورتحال سے غیرریاستی عناصر نے فائدہ اٹھایا، ہم اپنے ملک کے چپے چپے کا فاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کسی کالعدم تنظیم میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ پاکستان کے کسی انچ پر قبضہ کر سکے، ہماری سکیورٹی کے ادارے بھرپور دفاع کیلئے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے، شفاف اور منصفانہ انداز میں انتخابات کے انعقاد کیلئے کوشاں ہیں، ہم اپنی ذمہ داری پوری کرکے چلے جائیں گے۔

کاکڑ نے کہا کہ 48 گھنٹوں میں اس بارے میں پالیسی اعلان کریں گے، ایک سے 16 گریڈ تک واپڈا اہلکاروں کے مفت یونٹ کا معاملہ نہیں چھیڑا جائے گا، گریڈ 17 سے 22 تک کیلئے مفت بجلی فراہمی کے معاملے پر دیگر آپشنز پر عمل کریں گے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے