بُری طرزِ حکمرانی پر شہری ملک چھوڑ جاتے ہیں: چیف جسٹس
پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے معاشی صورتحال اور یکساں مواقع نہ ملنے پر شہریوں کے ملک چھوڑنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
جمعے کو نیب ترامیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کے مقدمات میں دنیا بھر میں آمدن سے زائد اثاثوں کے اصول کا استعمال کم کیا جاتا ہے۔
چیف جسٹس کے مطابق ایسے مقدمات میں باقی دنیا میں براہ راست ثبوتوں کو دیکھا جاتا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ماضی میں نیب قانون کا غلط استعمال کیا جاتا رہا، اب قانون سازی کے ذریعے سرکاری افسران کو نیب سے تحفظ فراہم کیا گیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آڈیٹر جنرل اہم آئینی ادارہ ہے، مضبوط آڈیٹر جنرل آفس صوبوں کے اکاؤنٹس کو بھی دیکھ سکتا ہے۔
چیف کا کہنا تھا کہ نیب ترامیم سے براہ راست بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی، تاہم ان ترامیم سے بلواسطہ حقوق متاثر ہونے کا پہلو ضرور ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ بری طرز حکمرانی ہوگی یا مجرمانہ معاشرہ ہوگا تو لوگ ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے قانون میں کی گئی حالیہ ترامیم سے فائدہ حاصل کرنے والے ملزمان کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جس کے مطابق رواں سال 30 اگست تک 22 ریفرنس نیب عدالتوں سے واپس بھجوائے گئے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ صدارتی معافی کی طرح نیب سے معافیاں دی جا رہی ہیں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم تین رکنی خصوصی بینچ نے نیب ترامیم کے خلاف تحریک انصاف کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔
نیب رپورٹ کے مطابق ترامیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی شامل ہیں۔
ملزمان خورشید انور جمالی، منظور قادر کاکا اور خواجہ انور مجید کے مقدمات بھی نیب عدالت سے واپس بجھوائے گئے۔ جعلی اکاؤنٹس کیس کے مرکزی ملزم حسین لوائی کا کیس بھی نیب کے دائرہ اختیار سے نکل گیا۔
آصف زرداری کے خلاف پارک لین ریفرنس احتساب عدالت نے قانون میں ترامیم کے بعد واپس کر دیا جبکہ اومنی گروپ کے عبدالغنی مجید کے خلاف نیب کیسز بھی احتساب عدالت سے واپس ہو گئے۔
رواں سال مجموعی طور پر 22 مقدمات احتساب عدالتوں سے واپس ہوئے جبکہ ترامیم کی روشنی میں 25 مقدمات دیگر عدالتوں کو منتقل کر دیے گئے۔
سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’خواجہ حارث صاحب اجازت ہو تو مخدوم علی خان سے ایک بات پوچھوں۔ کل ہم نے ترمیمی قانون میں ایک اور چیز دیکھی، میوچوئل لیگل اسسٹنس (ایم ایل اے) کے تحت حاصل شواہد کی حیثیت ختم کر دی گئی، اب نیب کو خود وہاں سروسز لینا ہوں گی جو مہنگی پڑیں گی۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ نے کل کہا تھا کہ ایم ایل اے کے علاوہ بھی بیرون ملک سے جائیدادوں کی رپورٹ آئی ہے لیکن قانون میں تو اس ذریعے سے حاصل شواہد قابل قبول ہی نہیں۔ نیب ترامیم کے ذریعے بین الاقوامی قانونی مدد کے ذریعے ملنے والے شواہد قابل قبول نہیں رہے۔‘
عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کی حراست میں ملزم کو دباؤ میں لاکر پلی بارگین کرنے کا تاثر موجود ہے۔ مخدوم علی خان نے کہا کہ یہ درست ہے کچھ مثالیں موجود ہیں جن میں دباؤ ڈال کر پلی بارگین کیا گیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’سندھ میں ایک کیس کی مثال موجود ہے۔ اس کیس میں پلی بارگین کر کے رقم طے کی گئی بعد میں تمام اثاثوں کا دوبارہ تخمینہ لگایا گیا۔ بتائیں پلی بارگین کی نیب شق میں کیسے بہتری لائی جا سکتی ہے۔‘

