پاکستان

ڈالر کا کاروبار، ایکسچینج کمپنیز کے لیے نئی اصلاحات متعارف

ستمبر 7, 2023

ڈالر کا کاروبار، ایکسچینج کمپنیز کے لیے نئی اصلاحات متعارف

پاکستان کے مرکزی بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کے لیے بنیادی اصلاحات متعارف کراتے ہوئے کم از کم سرمائے کی ضرورت کو 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کرنے کا اعلان کیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ مختلف اقسام کی موجودہ ایکسچینج کمپنیوں اور ان کی فرنچائزز کو یکجا کیا جائے گا۔

بی کیٹیگری کی ایکسچینج کمپنیز اور فرنچائزز کو تین ماہ میں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سٹیٹ بینک کے اس فیصلے کو ایکسچینج کمپنیز آف پاکستان نے مثبت قرار دیتے ہوئے کرنسی مارکیٹ کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے۔

بدھ کو سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ بینک دولت پاکستان نے ایکسچینج کمپنیوں کے شعبے میں بنیادی اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان اصلاحات میں یہ بات شامل ہے کہ زرِ مبادلہ کا کاروبار کرنے والے صفِ اول کے بینک عوام کی زرِ مبادلہ کی جائز ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنی ملکیت میں ایکسچینج کمپنیاں بنا سکیں گے۔

نیز موجودہ ایکسچینج کمپنیوں کی مختلف اقسام اور ان کی فرنچائز شاخوں کو یکجا کرکے انہیں ایکسچینج کمپنی کے واحد زمرے میں تبدیل کردیا جائے گا جس کا ایک مخصوص دائرہ کار ہوگا۔

اس وقت ملک میں ایکسچینج کمپنیز کی دو اقسام موجود ہیں۔ اس میں مکمل ایکسچینج کمپنی اور ایکسچینج کمپنی بی کیٹیگری شامل ہیں۔ جبکہ ایکسچینج کمپنی کسی کو بھی فرنچائز دینے کا اختیار رکھتی ہے۔ نئی اصلاحات کے بعد ایکسچینج کمپنیز بی کیٹیگری اور فرنچائزز کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ تازہ ہدایات کے مطابق گزشتہ چند سالوں کے دوران ایکسچینج کمپنیوں کی فرنچائزز کے آپریشنز میں اکثر ریگولیٹری مسائل اور کمزوریاں دیکھی گئی ہیں۔

گورننس کے معیار، اندرونی کنٹرول اور قوانین و ضوابط کی تعمیل کی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے ہیں، اس لیے اس شعبے میں بنیادی اصلاحات متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے