افغانوں کی سیاسی پناہ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے افغانستان سے جان بچا کر پاکستان آنے والی ایک ہزارہ خاتون سابق فوجی کے سیاسی پناہ کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے خلاف ایف آئی آر کو خارج کر دیا ہے-
افغانستان سے بھاگ کر آنے والی مسمات راحیل عزیزی کے خلاف ویزا نہ ہونے کی پاداش میں ایف ائی اے نے سیکشن 14 فارنرز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا-
یہ شق بغیر ویزا پاکستان آنے یا پاکستان میں رہنے سے متعلق ہے۔ اس جرم میں ملزم کو 10 برس تک کی سزا ہو سکتی ہے-
راحیل عزیزی نے اس کارروائی کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی-
درخواست گزار کی جانب سے وکیل عمر اعجاز گیلانی نے پیش ہو کر دلائل دیے۔
عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے خاتون کو باعزت بری کیا ہے۔
جسٹس بابر ستار نے 21 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا ہے کہ راحیل عزیزی کے پاس اس بات کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ افغانستان میں طالبان کی فتح کے بعد اس کی جان کو سنگین اور فوری خطرات لاحق تھے۔
وہ خوشی سے نہیں بلکہ جان بچانے ادھر آئی ہے۔
اس حوالے سے اقوام متحدہ کے شعبہ برائے مہاجرین، یو این ایچ سی آر پہلے ہی تفتیش اور اثبات کر چکی ہے۔
اسی بنا پر اسے آسٹریلیا نے سیاسی پناہ گزین کا ویزا بھی دے دیا مگر مقدمہ میں الجھنے کی وجہ سے وہ آسٹریلیا نہیں جا سکتی تھی۔
عدالت نے کہا کہ ایسی صورت میں ملزمہ کے خلاف فارنرز ایکٹ کا مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔
تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ پاکستان کے آئین میں مقامی باشندوں کے علاوہ پاکستان میں فی الوقت مقیم غیر ملکیوں کے بنیادی حقوق کو بھی تحفظ دیا گیا ہے- ان آئینی حقوق کا دفاع اسی وقت ممکن ہے جب سیاسی پناہ کے حق کو تسلیم کیا جائے۔
اگر کوئی بحالت مجبوری اپنی جان بچانے پاکستان آئے تو اس پر ویزا نہ ہونے کے الزام میں فوجداری مقدمہ چلانا قانون اور آئین کی منشاء کے برعکس ہے۔
تفصیلی فیصلے میں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس منیب اختر کے ترکی سکول ٹیچرز کے کیس کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، اور بین الاقوامی قوانین کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

