پاکستان

’مقدس گائے‘ سے ٹیکس لیں، ورلڈ بینک کو پاکستانی معیشت پر تشویش

ستمبر 23, 2023

’مقدس گائے‘ سے ٹیکس لیں، ورلڈ بینک کو پاکستانی معیشت پر تشویش

معیشت کی بدترین حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی بینک نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ زراعت اور رئیل اسٹیٹ  پر ٹیکس لگانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

عالمی بینک نے پاکستانی حکام سے یہ بھی کہا ہے کہ فضول اخراجات کو کم کریں تاکہ اقتصادی استحکام کے لیے معیشت کے حجم کی 7 فیصد سے زیادہ کی بھاری مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کی جا سکے۔

جمعے کو قرض دینے والے عالمی بینک نے یہ انکشاف بھی کیا کہ پاکستان میں غربت گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 39.4 فیصد تک بڑھ گئی اور مزید ایک کروڑ 25 افراد خراب معاشی حالات کا شکار ہو گئے۔ تقریباً نو کروڑ 50 لاکھ پاکستانی اس وقت غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔

واشنگٹن میں قائم ورلڈ بینک نے پالیسی نوٹ کے مسودے میں یہ بات کہی ہے جو اس نے اگلی حکومت کے لیے تمام شراکت داروں کی مدد سے تیار کیا ہے۔

عالمی بینک نے کم انسانی ترقی، غیر پائیدار مالیاتی صورتحال، حد سے زیادہ ریگولیٹڈ پرائیویٹ سیکٹر، زراعت اور توانائی کے شعبوں کی نشاندہی کی ہے جن میں اگلی حکومت کو ترجیحی طور پر اصلاحات لانا ہوں گی۔

ورلڈ بینک نے ایسے اقدامات تجویز کیے جو ٹیکس سے جی ڈی پی کے تناسب میں فوری طور پر 5% اضافہ کریں اور اخراجات کو جی ڈی پی کے تقریباً 2.7 فیصد تک کم کریں – جس کا مقصد غیر مستحکم معیشت کو ایک محتاط مالیاتی راستے پر ڈالنا ہے۔

تجویز کردہ اقدامات زیادہ تر ان شعبوں میں ہیں جنہیں پاکستان میں ’مقدس گائے‘ کا درجہ حاصل ہے اور حکومتیں ان سیکٹرز میں اصلاحات لانے سے ڈرتی ہیں۔

انگریزی زبان کے روزنامے ایکسپریس ٹریبیون میں صحافی شہباز رانا کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کے اہم ملکی ماہر اقتصادیات طوبیاس حق نے کہا کہ عالمی بینک آج کی معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا شکار ہے۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو سنگین معاشی اور انسانی ترقی کے بحرانوں کا سامنا ہے اور یہ ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں پالیسی میں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔
 
حکومتی محصولات کو مضبوط بنانے کے بارے میں بینک کے نوٹ میں ٹیکس چھوٹ کو واپس لینے اور ریئل اسٹیٹ اور زراعت کے شعبوں پر ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے ذریعے ریونیو ٹو جی ڈی پی کے تناسب کو 5 فیصد تک بہتر بنانے کے لیے بہت سے اقدامات دکھائے گئے۔

عالمی بینک میں پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر ناجی بینہسین نے کہا کہ ’یہ پاکستان کے لیے پالیسی میں تبدیلی کا اہم لمحہ ہو سکتا ہے۔‘
 
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال کا ادراک ہو جائے گا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پالیسیوں میں تبدیلی کا احساس تمام سیاسی جماعتوں، کاروباری اداروں، سول سوسائٹی اور ان تمام لوگوں کو ہے جو شمار کرتے ہیں؟‘
 
ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں غربت ایک سال کے اندر 34.2 فیصد سے بڑھ کر 39.4 فیصد ہو گئی اور ایک کروڑ 25 لاکھ. مزید افراد غربت کی لکیر سے نیچے 3.65 ڈالر یومیہ آمدنی کی سطح پر آ گئے۔
 
اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ غربت میں اضافہ زمینی حقائق کے مطابق ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے