کالم

دو دہائیاں پہلے فلسطین کی حریت کی سحر انگیز آواز

دسمبر 5, 2023 4 min

دو دہائیاں پہلے فلسطین کی حریت کی سحر انگیز آواز

Reading Time: 4 minutes

تحریر: منصور ندیم

لبنانی گلوکارہ جو اپنی حب الوطنی کی وجہ سے حزب اللہ سے تعلق رکھتی ہیں، اس کے علاوہ ان کی اصل شہرت فلسطین کے کاز کی حمایت ہے، سنہء 1968 میں لبنان کے شہر بیروت پیدا ہونے والی اس خاتون کا نسبی سلسلہ جنوبی لبنان طائر سے ملتا ہے, سترہ سال کی عمر میں اس نے اپنا پہلا گانا گایا جس کا عنوان تھا ” سچ کا سورج چلا گیا” اور یہ گانا اس وقت عرب دنیا میں بہت کامیاب ہوا تھا۔

اس کے بعد سے اسں نے بہت سے حب الوطنی کے گیت گائے، اس کے زیادہ تر گانے مشرق وسطیٰ میں حریت پسندی پر تھے، اور اسی وجہ سے انقلابیوں اور مزاحمتی جنگجوؤں، خاص طور پر فلسطین اور لبنان میں اس کو بہت پسند کیا گیا, اس خاتون نے سنہء 1996 میں الیاس بو صاب سے شادی کی، الیاس بو صاب سعد حریری کے دور میں وزیر دفاع اور تمم سلام کے دور میں وزیر تعلیم بھی ہے، آج کل یہ خاتون دبئی میں مقیم ہیں اور ان کے شوہر دبئی کی امریکن یونیورسٹی کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔ یہ پچھلی تین دہائیوں سے فلسطین میں لبنان میں اپنے مزاحمتی گیتوں کی وجہ سے مقبول ہیں، فلسطین میں عرب مقامی لوگوں کی مزاحمت پر اس خاتون نے وین الملایین کی پوری سیریز کے نغمے گائے ہیں جن میں سے ایک مقبول حریت کا نغمہ یہ ہے۔

وين الملايين وين الملايين
الشعب العربي وين
الغضب العربي وين
الدم العربي وين
الشرف العربي وين
وين الملايين
نحن الحق ونحن الثورة
وهما صحاب الفيل
جيل الحق وجيل الثورة
طيور الأبابيل
لازم نرميهم بحجارة
حجارة من سجيل
لا نركع لا نصغى لأمره
وكيدها في تضليل
اللي فوسط الضلوع
أقوى من الدروع
لو نفنى بكرة أبينا
اكتب يا زمان
أبدا ما تهون أراضينا
والثورة عنوان
في صدري مخزن رشاشة
ونقول اخوتي وين
الله معانا أقوى
وأكبر من بني صهيون
يشنق يقتل يدفن يقبر
أرضي ما بتهون
دمي الأحمر راوي الأخضر
بطعم الليمون
نار الثورة تقوى و تسعر
نحنا المنتصرين
أقوى من الجبال
أكثر من الرمال
داخل الاعتقال نغني شهدانا حيين
خارج الاعتقال نقاتل لا نركع لا نلين
اكتب يا زمان
الثورة ايمان
الثورة عنوان

اردو ترجمہ

کہاں ہیں ؟ کہاں ہیں ؟ کہاں ہیں ؟
لاکھوں عرب کہاں گئے ؟ ملت عربی کہاں گئی ؟ عربوں کا غصہ کہاں گیا ؟
عربوں کا خون کہاں گیا ؟ عربوں کی آبرو کہاں گئی ؟ لاکھوں عرب کہاں گئے ؟
کہاں ہیں ؟ کہاں ہیں ؟
خدا ہمارے ساتھ ہے
میں صہیونیوں سے زیادہ طاقتور ہوں
وہ دار پر لٹکاتے ہیں، مارتے ہیں، دفن کرتے ہیں، خاک میں ملاتے ہیں
لیکن میری زمین میرے اندر سے نہیں نکلتی
میرا سرخ لہو میرے وطن کو سبز کرتا ہے
لیموں کے ذائقے والی سرسبزی
خدا میرے ساتھ ہے۔ میں صہیونیوں سے زیادہ طاقتور ہوں
وہ دار پر لٹکاتے ہیں، مارتے ہیں، دفن کرتے ہیں، خاک میں ملاتے ہیں
لیکن میری سرزمین ختم نہ ہوگی
میرا سرخ لہو میرے وطن کو سرسبز کرتا ہے
لیموں کے ذائقے جیسی سرسبزی
مجھے انقلاب کی آگ نہیں جلاتی۔ میں فاتح ہوں
کہاں ہیں ؟ کہاں ہیں ؟
جو میرے سینے میں (دل) ہے، وہ بکتر سے بھی زیادہ مضبوط ہے
میرے سینے میں مشین گنوں والا ٹینک ہے۔ اور ہم کہتے ہیں
میرے بھائی کہاں ہیں ؟ کہاں ہیں ؟ کہاں ہیں ؟
اے زمانے ! لکھ ، انقلاب ایمان ہے، انقلاب عنوان ہے
اے زمانے ! لکھ، انقلاب ایمان ہے، انقلاب عنوان ہے۔

اس خاتون کے گانے ان کا بھائی کمپوز کرتا ہے، اس خاتون کی سحر انگیز اور ولولہ انگیز آواز ایک اس مزاحمتی تحریک میں ایک روح بھر دیتی ہے۔ یہ پچلھے تین دہائیوں سے گارہی ہے۔ سنہء 2006 میں اس خاتون نے ایک پروجیکٹ کے تحت کنسرٹ کو گروپ بنایا اور پوری عرب دنیا میں کنسرٹ کئے، جس میں وطن اور حریت کے گیت گائے۔ ان کنسرٹس سے حاصل ہونے والی آمدنی، سی ڈیز کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی جو کہ 3 ملین ڈالر تھی، کو لبنان و فلسطین کی جنگ میں مارے گئے متاثرین کے اہل خانہ کے لئے وقف کی، اس خاتون کو تیونس، اردن، شام، قطر، اور امارات میں سرکاری سطح پر اعزازات بھی دئیے گئے اور اپنی آواز کے ذریعے مزاحمت میں موثر کردار ادا کرنے پر اسے جمہوریہ لبنان کے صدر سے لبنان میں دیودار کا تمغہ بھی ملا۔

اصل تعارف کا مقصد یہ ہے کہ یہ خاتون جن کا نام جولیا بطرس ہے، یہ مذہب کے اعتبار سے عیسائی ہیں، لیکن چونکہ عرب ہیں تو یہ اپنی سرزمین کو حریت کے طور پر دیکھتی ہیں، ان کے سارے نغمے اور ان کے کنسرٹس میں شرکت کرنے والے مسلمان اور عیسائی تمام لوگ فلسطین کے مسئلے کو حریت کے نظریے سے دیکھتے ہیں نہ کہ مذہب کے نظریے سے، یہ الگ بات ہے کہ ہمارے پاکستانی مولوی آج کل کچھ دنوں سے اس کی ویڈیو لگا کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ آج عربوں کی غیرت جگارہی ہے، یہ جن کانسرٹ کی ویڈیو لگا رہے ہیں یہ بھی کم از کم 10 سے پندرہ برس پرانے کانسرٹ ہیں، جو عرب میں ہوئے تھے، فلسطین قضیہ میں ہر سطح پر مسیحیوں کی قربانی کا انکار ھماس کے چاہنے والے پاکستانی مذہبی اذہان ہی کرسکتے ہیں، ورنہ فلسطین کا معاملہ پوری دنیا میں جتنا بھرپور اٹھایا گیا ہے اس میں ہمیشہ زیادہ حصہ عرب مسیحیوں کا رہا ہے۔ وہاں کے مقامی لوگ اسے مذہب کی نفرت سے نہیں بلکہ اپنے حق کے طور پر دیکھتے ہیں۔

جولیا بطرس کی آواز میں جادو دیکھیں، اور اسے حالیہ کنسرٹ سمجھنے والے بے وقوف جان لیں کہ آج اس خاتون کی عمر 55 برس ہوچکی ہے۔ اور اب یہ کنسرٹ نہیں کرتی۔ کسی بھی خطے کی حق خود ارادیت اور حریت کی تحریک کو پاکستانی بلاوجہ اپنی مذہبی جنگ مت بنائیں، کیونکہ جولیا بطرس اس میں جنگجوں کی بات کررہی ہے تو کیا یہ جنگ مذہب کی ہوتی تو بطور عیسائی وہ کیسے آپ کہ جنگ کی بات کررہی ہے، لاکھوں کے مجمعے جولیا بطرس کے کنسرٹ میں بشمول مسلمان و عیسائی شامل ہوکر فلسطین کے حق کی بات کرتے تھے، ہمارے پاکستانیوں کو چاہئے کہ اپنی مخصوص تعصب کی عینک اتار کر ان کے تصور آزادی سے ان کے حقوق کے لئے آواز اٹھائیں اور انہیں سپورٹ کریں۔ کیونکہ ہمارا مذہبی ذہن تو ہر مذہب سے صرف نفرت ہی کرتا ہے تو وہ یہ جان لیں کہ عربوں میں مذاہب کے لئے ایسی نفرت نہیں ہے، اور فلسطین کے لئے آواز اٹھانے والے عیسائیوں کے علاوہ یہودی بھی مل جائیں گے۔ کیونکہ فلسطین کے مقامی افراد میں دستاویزی ریکارڈ کی کتب سے لے کر فکشن ناول و نغموں تک فلسطین کی حریت میں مسیحیوں کا مسلمانوں کے ساتھ برابر کا حصہ ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے