جج ابوالحسنات کا مارشل لائی حکم، سائفر کیس کی رپورٹنگ پر پابندی عائد
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان اور شاہ محمود کا ٹرائل کرنے والی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے ایک غیرمعمولی حکمنامے کے ذریعےسائفر کیس کی کارروائی کے بارے میں رپورٹنگ پر پابندی عائد کر دی ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر سائفر کیس کی کارروائی نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کی جاتی ہے۔
آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے یہ پابندی جمعرات کو عائد کی کہ ’پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر سائفر کیس کی کوئی کارروائی نشر نہیں ہو گی۔‘
’پیمرا اور پی ٹی اے اس حوالے سے ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنائیں، اگر کسی نے اس کی خلاف ورزی کی تو پھر اس کے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔‘
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’پیمرا اور پی ٹی اے کو عدالتی حکم کی کاپی فراہم کی جائے تاکہ آئندہ اس حوالے سے کوئی خلاف ورزی نہ ہو۔‘
خصوصی عدالت کی جانب سے سائفر کیس کا ٹرائل ان کیمرہ کرنے کی پراسیکیوشن کی درخواست منظور کرلی گئی۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق ’سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی فیملی کیس کی سماعت کے دوران مشروط طور پر موجود ہو گی۔‘
’شرط یہ ہو گی کہ عدالتی کارروائی کو فیملی کے ارکان کسی جگہ بیان نہیں کریں گے، ٹرائل کے دوران عام افراد موجود نہیں ہوں گے۔‘

