آڈیو لیکس پر وفاقی حکومت تماشا لگانا چاہتی ہے تو لگا لے: ہائیکورٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت کی ہے کہ آڈیو لیکس پر تفصیلی رپورٹ جمع کرائی جائے۔
بدھ کو بشریٰ بی بی اور ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو لیکس کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ایف آئی اے سمیت دیگر کو دوبارہ جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔
عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل منصور اعوان نے وزیراعظم آفس کی رپورٹ پیش کی۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آڈیو ٹیپ کی کسی ایجنسی کو اجازت نہیں۔
وزیراعظم آفس کی پوزیشن ہے کہ آئی ایس آئی ، ایف آئی اے ، آئی بی کسی کو آڈیو ٹیپ کی اجازت نہیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی اے کو پہلے دیکھنا ہے کہ کس نے کال ریکارڈ کی، عدالتی احکامات کے بعد ایف آئی اے ٹیلی کام کمپنیوں کو لکھ رہا ہے۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایف آئی اے کو آئی پی ایڈریسز تک رسائی چاہیے ہو گی۔
اگر کوئی حکومتی ایجنسی یہ ریکارڈنگز کر رہی ہے تو وہ غیر قانونی طریقے سے کر رہی ہے۔
اٹارنی جنرل کے مطابق آئی ایس آئی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا فلیٹ فارمز سے رپورٹ لینی پڑے گی تب ہی تحقیقات آگے بڑھ سکتی ہیں۔
جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آئی ایس آئی کہہ رہی ہے کہ آڈیو کہاں سے لیک ہوئی اس کے سورس کا پتہ نہیں لگا سکتی۔ آئی ایس آئی نے وزارت دفاع کے ذریعے کیوں ریورٹ فائل کی ؟
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ان کو وزیراعظم آفس کے ذریعے ریورٹ فائل کرنی چاہیے تھی۔
پیمرا کے وکیل نے بتایا کہ پرائیویٹ آڈیو لیک کو ٹی وی چینلز نشر نہیں کر سکتے۔ ہم نے کہا تھا کہ ٹی وی چینلز اس قسم کی آڈیو لیکس نشر نہیں کریں گے، ہم نے یہ معاملہ کونسل آف کمپلینٹ کو بھیجا وہ فیصلہ کریں گے۔
جسٹس بابر ستار نے پوچھا کہ کیا آپ موثر طریقے سے بطور ریگولیٹر کام کر رہے ہیں؟
کیا آپ نے ٹی وی چینلز کو کسی اور کیس میں فوری ہدایات جاری کی ہیں؟ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ فوری طور پر اپ ایکشن نہیں لے سکتے معاملہ پیمرا کونسل آف کمپلینٹ کے پاس جائے گا۔
پیمرا کے وکیل نے بتایا کہ پرائیویٹ آڈیو لیک کو ٹی وی چینلز نشر نہیں کر سکتے۔
جسٹس بابر ستار نے پوچھا کہ پیمرا اس حوالے سے کیا ایکشن لے رہا ہے ؟
جسٹس بابر ستار نے کہا کہ کھوسہ صاحب، اعتراز صاحب نے لکھا تھا کہ ریاست ہو گی تو ماں کے جیسی۔
وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ تضحیک آمیز رویہ ہے۔ ایک دفعہ نہیں پورا دن ٹی وی چینلز پر وہ آڈیو لیکس چلتی رہیں۔
جسٹس بابر ستار نے کہا کہ تماشا بنانا چاہتے ہیں تو بنا لیں، اب وفاقی حکومت پر ہے کہ وہ کیس کو کیسے چلانا چاہتی ہے۔
جسٹس بابر ستار نے کہا کہ اگر حکومت نے نہیں بتایا تو پھر ہم نیشنل اور انٹرنیشنل عدالتی معاون مقرر کریں گے۔
جسٹس بابر ستار نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ چیک کیجیے گا کیا کوئی خبر تھی کہ انٹیلیجنس بیورو کو ریکارڈنگ کی اتھارٹی دی گئی کیا ایسا ہے؟
اٹارنی جنرل منصور اعوان نے جواب دیا کہ وہ معلومات حاصل کر کے عدالت کو آگاہ کریں گے۔
وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہاں نام لینے پر تو پابندی ہے لیکن میری تصویر پورا دن چلتی رہی ہے۔
جسٹس بابر ستار نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ تو آپ کے الیکشن میں بھی پھر آپ کی مدد کرے گی۔
جسٹس بابر ستار نے کہا کہ بہرحال یہ ایک سیریس ایشو ہے اس کو ایڈریس کریں گے۔
عدالت نے ایف آئی اے سمیت دیگر کو دوبارہ جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

