اسلام آباد میں بلوچ لانگ مارچ کے شرکا پر لاٹھی چارج، متعدد گرفتار
اسلام آباد پولیس نے دعوی کیا ہے کہ چونگی نمبر 26 اور ایوب چوک میں اہلکاروں پر بلوچ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا جس پر متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
دوسری جانب جمعرات کی علی الصبح لاپتہ بلوچ افراد کی بازیابی کے لیے لانگ مارچ کی سربراہی کرنے والی ماہ رنگ بلوچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’تمام مظاہرین کو گرفتار کر کے مختلف تھانوں میں رکھا گیا ہے۔‘
ماہ رنگ بلوچ کے مطابق ’اس وقت خواتین اور بچوں کو ایک اور تھانے میں لے جایا جا رہا ہے۔ ہم اپنے مرد ساتھیوں کے ساتھ رابطہ نہیں کر پا رہے، اور ہمیں خوف ہے کہ ریاست اُن کو اغوا کر لے گی۔‘
رات گئے اسلام آباد پولیس نے بلوچستان کے علاقے تربت سے قافلے کی صورت میں آںے والے افراد کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔
بعد ازاں ایک بیان میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ جی ٹی روڈ اور موٹروے سے اسلام آباد میں داخل ہونے والے راستے پر ’چونگی نمبر 26 میں مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔‘
پولیس کے بیان کے مطابق ’ایوب چوک پر بھی مظاہرین کی طرف سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔ اور پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’راستہ روکنے اور سڑکیں بند کرنے والوں کے خلاف ضابطہ کے مطابق قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ آپ سے گذارش ہے کہ کسی بھی غیر قانونی اجتماع یا پر تشدد مظاہرے کا حصہ نہ بنیں۔ عورتوں اور بچوں کو پر تشدد مظاہروں سے دور رکھیں۔‘
بدھ کی رات پولیس نے کہا تھا کہ ’مظاہرین کے درمیان متعدد نقاب پوش اور ڈنڈا بردار موجود ہیں۔ مظاہرین کو ہائی سکیورٹی زون میں داخلے سے روکنے کے لیے غیر مہلک طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ طاقت کے استعمال سے مکمل گریز کیا گیا ہے۔
پولیس نے اعلان کیا تھا کہ ’بزرگوں،عورتوں اور بچوں سے گذارش ہے کہ پرتشدد ہجوم کا حصہ نہ بنیں اور کسی کے بہکاوے میں مت آئیں۔ اسلام آباد کے شہریوں کی جان اور املاک کی حفاظت اسلام آباد پولیس کی اولین ترجیح ہے۔‘

