کالم

الیکشن اپ کو کچھ نہیں دے گا افراتفری کے سوا

جنوری 14, 2024 5 min

الیکشن اپ کو کچھ نہیں دے گا افراتفری کے سوا

Reading Time: 5 minutes

ایک دوست جن سے فیس بک کے ذریعے تعارف ہوا اور پھر ذاتی ملاقاتیں بھی ہوئیں اور ہم نے ہمیشہ ایک دوسرے کی کمپنی کا مزا لیا کی کال آئی اور انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ میں اس مخصوص ادارے کی لائن ٹو کر رہا ہوں جس کے خلاف لکھتا آیا ہوں اور جس کو فساد کی جڑ سمجھتا ہوں.

پچھلے ہفتے امریکا سے بھی ایک دوست کی کال آئی جن سے دو چار بار واٹس ایپ پر طویل گفتگو ہوچکی ہے،نہایت فہیم انسان ہیں،ان کا ماننا تھا کہ میں سیاستدانوں پر وہی الزامات لگا رہا ہوں جو آمر لگاتے رہے اور میں آئیڈیلزم کا شکار ہوں.

اس سے پہلے فیس بک کے ایک ہیوی ویٹ اپنی پوسٹس میں فدوی کے افکار پر جگتیں لگا کر دل ہلکا کر چکے ہیں۔

مناسب ہوگا کہ اپنا مقدمہ کھل کر پیش کیا جائے.
فدوی کا ماننا ہے کہ اس ملک کے مسائل اتنے ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہیں کہ انہیں ایک لارجر ری کنسیلئیشن کے بنا حل نہیں کیا جاسکتا۔
یہ کسی ایک ادارے یا ایک سیاسی جماعت کے بس کا کام نہیں۔
اس کے لیے سب کی شمولیت ضروری ہے۔

زیادہ دور نہیں جاتے چارٹر آف ڈیموکریسی سے شروع کرتے ہیں،جس دن چارٹر آف ڈیموکریسی سائن ہوا ہمیں لگا کہ ہم نے ضیا کے دور کے بعد کمپنی بہادر کی لڑاٶ اور حکومت کرو والی مستقل پالیسی سے نجات کی طرف پہلا قدم اٹھا لیا.

ملک دو پارٹی سسٹم کی طرف چل پڑا،کچھ اصول طے ہوئے اور ہمیں اطمینان ہوا کہ سیاسی جماعتیں اب الیکشن کو سستا کریں گی کیونکہ انہی دو پارٹیوں سے ہی ٹکٹ ملے گا،کمپین سستی ہوگی،انویسٹرز درکار نہیں ہوں گے،قبضہ گروپ کا انفلوئنس ختم ہوگا.

کمپنی بہادر جس نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی لیگیسی کیری کی تھی نے جیسے ہی محسوس کیا کہ لانگ ٹرم میں وہ کمزور حکومتوں کو بلیک میل نہیں کر سکیں گے اور بالاخر ان کے معاشی مفاد پر زد پڑے گی تو انہوں نے عمران خان کو اکھاڑے میں اتار کر دونوں میچور سیاسی جماعتوں کو بدنام کرنے کی پرانی پالیسی پر تین سو گنا طاقت سے کام شروع کر دیا۔

آپریشن پاشا میں ذرائع ابلاغ پر قبضہ کیا گیا،ضیا الحق کے پروردہ صحافی خریدے گئے اور ایک ہی بیانیہ ہر جگہ چلنا شروع ہوگیا۔

تیرہ کے الیکشن میں عمران خان کے گرنے کی وجہ سے پروگرام کو تھوڑا سا موخر کیا گیا اور اس دوران نواز حکومت بن گئی،نواز حکومت کو بھارت کے ساتھ تعلقات کی برف پگھلانے کے جرم میں ایک دھرنے سے دوچار کیا گیا،اس دوران ملک کے تمام ذرائع ابلاغ اپنے اشتہار روک کر اس بیانیے کو بار بار چلاتے رہے،بول اور اے آر وائے جیسے چینل بن گئے،اربوں روپے پانی کی طرح بہائے گئےلیکن ایک بار پھر پھٹے پرانے چارٹر آف ڈیموکریسی کے ذریعے ہی اس دھرنے کو پسپا کیا گیا۔

عدالتوں کے ذریعے نواز شریف کو نکالا گیا اٹھارہ کے الیکشن میں تیسری طاقت(جس کو آسانی سے استعمال کیا جاسکے)کو اقتدار دے گیا۔

عوامی منشا کے بالکل برعکس آنے والی حکومت پر شروع دن سے حرامی ہونے کا الزام لگ گیا۔
یہ وہ وقت تھا جب ان صفحوں پر یہ بات بار بار لکھی گٸی کہ کمپنی بہادر باقی سٹیک ہولڈرز کو نکال کر اس سسٹم کو چلا نہیں پائے گی۔

ساڑھے تین سال کے اس دور میں طاقت کہاں سے حاصل کی گئی؟سیکٹر کمانڈرز سے،عوامی نمائندے شیرو اور موٹو سے کمتر تھے،پنجاب بزدار گوگی کے حوالے ہوا،عمران کے سیاسی مخالفین سے ڈیل کرکے عمران خان کو پانچ سال کا لیوریج دیا گیا لیکن نتیجہ برامد نہیں ہوا۔

اس دوران سنجیدہ لوگ یہ مشورہ دیتے رہے کہ ملک تباہی کی ڈگر پر سرپٹ بھاگ رہا ہے اور اس موقع پر اسی اسٹیبشلمنٹ کو آپ کی ضرورت ہے جس نے آپریشن پاشا کے ذریعے آپ کو ڈس کریڈٹ کیا،نواز شریف نے پہلے پہل سمجھداری کا مظاہرہ کیا لیکن پھر کمپنی بہادر کے ٹریپ میں آگیا جہاں زرداری پہلے ہی سے خیمہ لگاٸے بیٹھا تھا اور عدم اعتماد منعقد کر دی گئی۔

عمران جس کی کارکردگی صفر تھی نے فیصلہ کیا کہ عوامی اذہان پر بیس سالہ بمباری سے بنے گڑھوں کی نرم جگہ کو استعمال کیا جاٸے،اسی پروپیگنڈا کو جاری رکھا،احمق جماعتوں نے آٸی سی یو میں پڑے مریض کاعلاج شروع کیا،مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی اور اس دوران عمران نے کمال مہارت سے اپنا تمام گند احمق جماعتوں پر ڈال دیا۔عوام نے ذہنی طور پر تسلیم کرلیا کہ عمران سچا اور یہ جھوٹے ہیں۔
نو مئی وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا جب کمپنی بہادر نے عمران کی غلطی سے وہ تمام چوکیاں دوبارہ فتح کرلیں جو ضیا الحق کے منحوس دور سے ایک ایک کرکے فتح کی گئی تھی۔

کمپنی بہادر نے جن لوگوں کو اربوں روپے دیے تھے کو واپس بلانا چاہا لیکن ان کو اپنے معاشی مفادات عمران کے ساتھ نظر آٸے اور یوں کمپنی نے ان لوگوں کو سبق سکھانے کا فیصلہ بھی کیا۔

عمران کمپنی بہادر سے پرسنل ہوگیا تھا اس لیے وہ بھی پرسنل ہوگئی۔
اب کمپنی بہادر پرانا کھیل کھیل رہی ہے،کمپنی بہادر ایک کمزور حکومت بنانا چاہتی ہے تاکہ وہ کنٹرول کرسکے۔

عمران کی سیاسی جماعت کو کرش کیا جا رہا ہے اور دونوں میچور جماعتوں کو کمزور حکومت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
دونوں سیاسی جماعتیں ٹریپ ہو رہی ہیں۔

ہماری بات وہی ہے کہ جیسے اس وقت نواز سٹیک ہولڈر تھا اور آپ اسے نکال کر نظام نہیں چلا سکتے تھے(نواز سرمایہ داروں کا نماٸندہ تھا)اسی طرح آج آپ عمران کو نکال کر نظام نہیں چلا سکتے۔
ایک نیا چارٹر آف ڈیموکریسی کریں جس میں سب سٹیک ہولڈرز ہوں،ماضی پر لکیر پھیریں،نٸے اصول وضع کریں،فری اینڈ فئیر الیکشن کروائیں اور جس کو عوام چنیں ان کو پانچ سال حکومت کرنے دیں۔
بنیادی اصول جیسے

دس سال کا ہیومن ریسورس ڈویلیپمنٹ پلان،زراعت کی ترقی کا پروگرام بناٸیں،اسی چارٹر آف ڈیموکریسی میں ہمسایہ ملکوں سے اچھے تعلقات،ایٹمی ہتھیاروں کی تخفیف اور فوج کی تعداد میں کمی،عدلیہ کی تطہیر پر معاہدہ کریں۔
یقینی طور پر یہ بات کمپنی بہادر کے مفادات کو شدید زک پہنچاٸے گی اور وہ اپنی اسی موجودہ پالیسی کے تحت کمزور حکومت بنانے کو ہی ترجیح بناٸیں گے۔

ان کے نزدیک بگٹی کو اقتدار میں حصہ دینے کی بجائے مارنا آسان حل،بھٹو کو پھانسی دینا،جلا وطنیاں کرنا بہترین سٹریٹیجی ہے۔

ہم ان جماعتوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جب عمران اقتدار سے گیا تو اپ کے پاس جو دو من مقبولیت تھی وہ اب آدھا من ہے اور اگلی کمزور اور داغدار (حرامی حکومت) اپ کی اس بیس کلو مقبولیت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لٸے ختم کردے گی،آپ پر دھاندلی کا وہ الزام جو عمران پر تھا لگ چکا ہے،ڈیلیوری کمزور حکومت کر نہیں سکے گی،اگر نون کی حکومت بنی تو زرداری بلیک میل کرے گا اور اگر زرداری کی بنی تو نون کسی کی رکھیل بن جائے گی۔

خدا کا واسطہ ہے اکٹھے ہوجاٶ،عمران کو ڈاٸیلاگ کا حصہ بناٶ،لانگ ٹرم پلاننگ کرو،مستحکم حکومت بناٶ جسے پتہ ہو کہ وہ لانگ ٹرم پلان بنا سکتی ہے۔

لال مسجد آپریشن،بگٹی مرڈر،بنظیر مرڈر،نواز شریف جلاوطنی سے مساٸل حل نہیں ہوٸے تو عمران کو نکال کر بھی حل نہیں ہونے۔
طاقت عوام سے حاصل کرو،ڈرگ مافیا اور قبضہ گروپ سے جان چھڑاٶ۔

کیا یہ کمپنی بہادر کی پالیسی ہے؟کبھی نہ کبھی آپ نے یہ سفر شروع کرنا ہے،یہ الیکشن اپ کو کچھ نہیں دے گا افراتفری کے سوا.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے