اہم خبریں متفرق خبریں

پاکستان کی ڈوبتی معیشت اور 8 فروری کے انتخابات، مستقبل کیا؟

فروری 12, 2024 2 min

پاکستان کی ڈوبتی معیشت اور 8 فروری کے انتخابات، مستقبل کیا؟

Reading Time: 2 minutes

عاطف میاں۔ عالمی معاشی ماہر

پاکستان کی معیشت عالمی سطح پر مسلسل پیچھے چلی گئی ہے- گزشتہ سال بدترین برسوں میں سے ایک تھا، جس میں معیشت دراصل سکڑ رہی تھی۔

ہر میکرو بنیادی چیز کا انڈیکیٹر یا اعشاریہ سرخ بتی کی طرح چمک رہا ہے: افراط زر، نمو، قرض، سرمایہ کاری، یہ صرف چند نام ہیں۔

وفاقی حکومت کے پاس پیسے نہیں ہیں۔

یہ ادھار لیے بغیر چپڑاسی یا سپاہی کی تنخواہ بھی نہیں دے سکتی۔

ریاستی ٹیکس کی پوری آمدن صوبوں کو ان کا حصہ، ریٹائر ہونے والوں کو پنشن اور قرض پر سود ادا کرنے پر خرچ ہو جاتی ہے۔

جب پوری حکومت خسارے پر چلی جائے تو مہنگائی پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔

جب حکومت کے پاس مستقبل میں سرمایہ کاری کے لیے رقم نہ ہو تو معاشی ترقی ناممکن ہے۔

اور معیشت کا بڑھوتری کی طرف نہ جانا ہر مسئلے کو مزید گھمبیر بنا دیتا ہے۔

ملک دیوالیہ ہو چکا ہے۔ یہ ہر سال گہرائی میں ڈوب رہا ہے۔

میں نے ایسی مایوسی کبھی نہیں دیکھی۔

بہت سے لوگ ملک چھوڑنا چاہتے ہیں، برسوں سے قائم مضبوط کمپنیاں اب مزید سرمایہ کاری نہیں کر رہیں۔

اس کے باوجود کسی رہنما کے پاس مستقبل کے لیے کوئی قابل عمل اقتصادی منصوبہ نہیں ہے۔

پیچھے کھڑی ہیولے جیسی اسٹیبلشمنٹ جو ہر کام کر رہی ہے کو خاص طور پر کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔

اس نے ’سپیشل انوسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل‘ (ایس آئی ایف سی) نامی ایک کمیٹی بنائی ہے جس میں فوجی اور سول رہنما بیٹھے ہیں مگر کیا واقعی یہ اس گھمبیرتا کو حل کر سکتی ہے؟

جب آپ کے اپنے لوگ تمام امیدیں کھو رہے ہیں تو آپ غیرملکیوں سے ملک پر یقین کرنے کی توقع رکھتے ہیں؟

اسی پس منظر میں 8 فروری کو انتخابات ہوئے۔

لوگ پاگل ہیں، اور انہیں بننے کا پورا حق ہے۔ پاکستان میں صرف گزشتہ سال چار لاکھ 42 ہزار 353 بچے غربت کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔

اس کا مطلب ہے ہر سال تقریباً نصف ملین بچوں کی اموات۔

لیکن اسٹیبلشمنٹ اپنے معمول کے کھیل کھیلنے میں مصروف تھی۔

اس کو جیل میں ڈالو اور اس بار پارلیمنٹ میں بھیجو۔

سسٹم کو طویل عرصہ غیرمستحکم رکھیں تاکہ ہم متعلقہ رہیں-

خواہ ہمارے بچے مرتے رہیں، کوئی پرواہ نہیں۔

انہوں نے ظاہر ہے عوام کے غصے کو بھانپ لیا تھا، اس لیے انتخابات میں دھاندلی کے لیے ہر اقدام اٹھایا گیا۔

اور ان کے اقدامات نے عوام کو مزید غصے سے بھر دیا۔

تو اب ہم یہاں 8 فروری کے بعد کے دور میں زندہ ہیں۔ حکمران اور عوام کے درمیان فاصلہ کبھی اتنا وسیع نہیں ہوا۔

کیا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کتنا خطرناک ہے؟

ایک کوشش ہے، ایک بار پھر کہ ایک سمجھوتہ کرنے والے گروپ کو اکٹھا کرنے کی۔

مگر معیشت کو ٹھیک کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

لیکن یہاں تک کہ اگر انہوں نے جادوئی طور پر کسی نہ کسی طرح کر لیا، پھر بھی وہ کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ وہ اپنے لوگوں کا اعتماد کھو چکے ہیں۔

وہ اپنی سرزمین میں پردیسی ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے