کالم

زندہ ہے ثاقب نثار زندہ ہے: مطیع اللہ جان کا کالم

مارچ 31, 2024 2 min

زندہ ہے ثاقب نثار زندہ ہے: مطیع اللہ جان کا کالم

Reading Time: 2 minutes

‏نجی گھریلو ملازم کی اوقات کیا ہوتی ہے؟ بیچارے کا اختیار نہ کوئی عزت اور ُاس پر ستم یہ کہ ریٹائرمنٹ اور پنشن بھی نہیں، مرنے سے پہلے اپنے کسی بچے کو صاحب اور صاحب کے بچوں کی خدمت واسطے دے دیا، یوں نسل در نسل کی یہ غلامی خاندانِ غلاماں کو بھوکا نہیں مرنے دیتی۔

اگر یہ ملازم کسی سرکاری ملازم کے گھر میں خدمت پر مامور ہو تو پھر پتہ چلتا ہے کہ ملازم ملازم میں بھی کتنا فرق ہے، گھریلو ملازم آٹا، دال اور چاول وغیرہ خرید کر بچوں کا پیٹ پالتا ہے اور اِس خریداری اور اپنے بلوں میں جو ٹیکس بھرتا ہے اُس ٹیکس سے اُس کے صاحب سرکاری ملازم کی تںخواہ و مراعات ادا ہوتی ہیں، وہ اپنے صاحب کو اپنے جیسے عوام کی خدمت کا معاوضہ ٹیکس کی صورت دیتا ہے مگر اُسے نکال نہیں سکتا، بلکہ اُس کے ٹیکس پر پلنے والے یہ صاحب لوگ ایک دوسرے کی مدت ملازمت میں توسیع کرتے رہتے ہیں۔

‏سنا ہے موجودہ چیف جسٹس کی مدت ملازمت میں توسیع کی جا رہی ہے، یا پھر ہر چیف کی تین سال کی مدت عہدہ مقرر کی جا رہی ہے، اِس کے لیے حکمران اتحاد کو پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے جو خواتین کی بندر بانٹی گئی مخصوص نشستوں کے ساتھ ممکن ہو چکی ہے.

ادھر مخصوص نشستوں والا کیس سپریم کورٹ میں آیا ہی چاہتا ہے، ایسے میں چیف جسٹس کی مدت ملازمت میں توسیع کی خبروں کا مقصد یا تو چیف جسٹس کو مخصوص نشستوں والا کیس سننے سے باز رکھنا ہے (کیونکہ آئینی طور پر پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے میں جھول واضح ہے) اور اِن خبروں کے باعث چیف جسٹس کے لیے مفادات کے ٹکراؤ ( conflict of interest) کی صورت حال پیدا کرنا ہے، یا پھر چیف جسٹس فائز عیسی کو ایسا بینچ بنانے پر راغب کرنا ہے جس میں اُن سمیت مستقبل کے چیف جسٹس صاحبان موجود ہوں۔

ایک اور مقصد ایسی خبروں کا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مدت ملازمت میں توسیع کی پلانٹڈ خبروں سے چیف جسٹس کو مزید خراب کرنا اور کمزور کرنا ہے جو وہ ابھی تک کے کچھ فیصلوں سے پہلے ہی بہت ہو چکے ہیں، حالات ایسے پیدا کیے جا رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی بھٹی سے ایک اور ثاقب نثار کُندن بن کر نکلے۔

مدت ملازمت میں توسیع کی ایسی خبروں سے چھ ججوں کی جرات مندانہ تحریر سے جڑی عوام کی عدلیہ سے امیدوں پر پانی پھیرا جا رہا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو اپنے کچھ غلط فیصلوں پر ڈٹ جانے کی طرف مائل کیا جا رہا ہے کہ وہ پکار اُٹھیں:

‏”ایسے تو ایسے ہی سہی”

‏نوٹ : مدت ملازمت کی خبروں متعلق سرکار نے تردید کر بھی دی تو مقصد تو تقریباً پورا ہوتا دکھائی دے رہا ہے، دیکھیں مخصوص نشستوں متعلق اپیلوں پر سپریم کورٹ میں بینچ کون سا بنتا ہے۔

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے