کالم

عید کے دن شمالی مقدونیہ کے خوبصورت شہر میں

اپریل 1, 2025 3 min

عید کے دن شمالی مقدونیہ کے خوبصورت شہر میں

Reading Time: 3 minutes

صادق کاکڑ – شمالی مقدونیہ

یہ عید تو میری سفر در سفر میں گزری۔ نئے ملک میں ہونے کی وجہ سے ہوٹل سے باہر میرے پاس انٹرنیٹ بھی نہیں تھا کہ دوستوں کو عید مبارک دوں یا جواب ہی دے سکوں۔

کئی مہینے مسلسل برسلز میں رہنے کی وجہ سے میں تھوڑا سا اکتانے لگا تھا اور سفر کا بہانہ ہی ڈھونڈ رہا تھا کہ سربیا سے 1 دوست نے بلا لیا۔ اس موقع کو غنیمت جانا اور چاند رات کو برسلز چھوڑا اور فلائٹ لے کر شمالی مقدونیہ کے دارالحکومت سکوپئیے پہنچ گیا۔

شمالی مقدونیہ (نارتھ میسیڈونیا) جنوب مشرقی یورپ بالقان ریجن میں واقع ایک یورپی ملک ہے۔ یہ ملک شنجن ایریا میں شامل نہیں ہے، شنجن ایریا کے تحت آپ 29 ممالک میں ویزہ فری جا سکتے ہیں۔ البتہ اگر آپ کے پاس شنجن ایریا کا کارڈ یا ملٹی پل انٹری ویزہ موجود ہو تو پھر آپ یہاں بغیر ویزے کے آ سکتے ہیں اور بارڈر پر آپ سے معمولی پوچھ کچھ اور آنے کا مقصد جان کر پاسپورٹ پر سٹیمپ لگا دیتے ہیں۔

یہ ملک اشتراکی وفاقی جمہوریہ یوگوسلاویہ کا حصہ تھا جس سے اس نے 1991ء میں آزادی حاصل کی۔ اس کے بعد یہ جمہوریہ مقدونیہ بنا اور اس نام پر اس کا گریس کے ساتھ تنازع شروع ہو گیا، کیونکہ گریس کے اندر ایک بڑی آبادی خود کو مقدونین کہتے تھے۔ یہ تنازعہ 2018 تک چلا اور 2018 میں اقوام متحدہ نے دونوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا اور مقدونیہ کا نام شمالی مقدونیہ بن گیا اور جنوری 2019 سے اسے اس نام سے پکارا جانے لگا۔

اب کی بار میں نے ایک ورک شاپ میں شرکت کرنے سربیا جانا تھا تو پلان بنایا کہ سیدھا سربیا جانے کے بجائے شمالی مقدونیہ کے دارالحکومت سکوپئیے (Skopje) جا کر وہاں 1 رات گزاروں گا اور اگلے دن شہر دیکھنے کے بعد بس کے ذریعہ سربیا کی طرف نکل جاؤں گا۔ سکوپئیے دیکھنے کی خواہش اس لئے بھی دل میں تھی کہ اسے بالقان ریجن کا لاس ویگاس بھی کہا جاتا ہے۔

عید کا سارا دن سکوپئیے میں تاریخ اور کلچر ڈھونڈتے گزرا۔ یہ شہر واقعی بہت خوبصورت ہے اور مجھے بہت پسند آیا۔ 2 سائڈوں سے سرسبز پہاڑوں میں گرے اس شہر کے اندر سٹی سینٹر کے پاس ہی ایک صدیوں پرانا قلعہ ہے اور وہی پر شہر کو دریا نے مزید خوبصورت بنا لیا ہے۔ سٹی سینٹر میں ہی خلافت عثمانیہ کے دور کی 3 مسجدیں موجود تھیں اور ان کے آس پاس کی گلیوں میں بہت سارے ریسٹورنٹ بنے ہوئے تھے۔ اس کے بعد قلعہ اور اس سے آگے نہر کے ساتھ مجسمے لگے ہوئے ہیں۔ اس شہر کے سٹی سینٹر کی سب سے خاص اور خوبصورت بات مجھے یہ لگی کہ یہاں لگے مجسمے بہت ترتیب سے لگائے گئے ہیں جس میں گریک فلاسفرز کو دریا کے ایک سائڈ پر نمایاں کیا گیا ہے اور دوسری طرف مسیحیت، چند قانون دانوں کے بعد کچھ مجسمے کیپٹلزم کے دور کے بھی ہیں کہ آج کل ہماری زندگی کیسے گزرتی ہے۔ یہ شہر مدر ٹریسا کی جائے پیدائش بھی ہے تو شہر کے بیچ مدرٹریسا سے منسوب 1 میوزیم ہے لیکن چھٹی ہونے کی وجہ سے میں میوزیم اندر نہیں دیکھ سکا۔

سکوپئیے واقعی ایسا شہر ہے جہاں میں واپس پھر آنا چاہوں گا۔ خوبصورت بھی ہے، سستا بھی ہے اور وائبز بھی بہت اچھی ہیں۔

سارا دن سکوپئیے میں گزارنے کے بعد میں سربیا کے لیے بذریعہ بس روانہ ہوا۔۔ آپ نارتھ مقدونیہ کی تصاویر دیکھیں۔

سربیا میں کیا کیا، کن سے ملا اور کیا دیکھا۔۔

یہ کہانی پھر سہی۔۔۔۔۔

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے